تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 424 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 424

۴۰۹ کی زیر قیادت گورنر جنرل سیلون سے ملا اور ان کی خدمت میں سلسلہ احمدیہ کا انگریزی در نہی لٹریچر پیش کیا۔گورنر جنرل صاحب نے جماعت کی کوششوں کو سراہا جس کا ذکر پریس میں بھی ہو ا۔اسی طرح سیلون کے وزیر اعظم مسٹر بندر نائیکے کو بھی قرآن مجید کا تحفہ پیش کیا گیا انہوں نے کہا کہ جماعت احمدیہ سرکاری زبان میں لٹریچر شائع کر کے بہت بڑی خدمت سر انجام دے رہی ہے۔اس واقعہ کی بھی اخبارات میں اشاعت ہوئی۔علاوہ ازیں سیلون کے وزیر تعلیم ، وزیر امور داخلہ، وزیر صنعت وزیر مواصلات، وزیر صحت ، وزیر محنت ، وزیر اراضیات ، وزیر ڈاک خانہ جات ، وزیر امور متعلقہ ثقافت اور درس اعلیٰ افسروں کو بھی لٹریچر دیا گیا ہے ریاست بو ہور ملایا کے محکمہ شرعیہ کے افسر اعلی ارونکو اسما عیل بن عبدالرحمن سنگا پور د ملایا مشن اسکندر شاہی خاندان کے سپوت تھے اور مالی ، انگریزی دو باربی زبانوں میں خاص دسترس رکھتے تھے۔آپ تک پیغام احمدیت مولانا محمد صادق صاحب سماٹری کے ذریعہ پہنچا اور آپ چار سال یک تحقیق کرنے کے بعد اس سال داخل احمدیت ہو گئے اور مایا کی احمدیہ جماعت کے لیے تقویت کا موجب بنے۔مولانا محمد صادقی صاحب سماٹر ی تخریہ فرماتے ہیں۔چونکہ ریاست جوہور کی سر حد سنگا پور سے ملتی ہے او اور یہ ہے ملایا کی ریاستوں میں سے سب سے بڑی اور دولت مند ریاست اس لیے میں نے اسے کبھی فراموش نہیں کیا تھا۔خصوصاً اس لیے بھی کہ ریاست جو مہور کے مفتی صاحب علوی بن طاہر بن الحداد اور چیف قامتی اسماعیل بن عبد العزیز احمدیت کے سخت مخالف تھے۔چنانچہ ۱۹۵۲ ء کے وسط میں میں نے مکرم عبدالمجید سالکین صاحب سے مشورہ کیا۔کہ کب جو ہور جانا مناسب ہوگا ؟۔تاکہ محکمہ شرعیہ جو مور کے افسرا علی اونکو اسماعیل صاحب سے ملاقات کی جاسکے۔آخر ایک دن ہم نے مقرر کیا اور اکھٹے بذریعہ میں مغرب کے بعد سنگا پور سے جو ہور روانہ ہو گئے چونکہ ہمیں انکو اسماعیل صاحب کے مکان کا علم نہ تھا اس لیے ہم ے پبلک لائبریری میں پہنچ کہ اونکو صاحب کا پتہ پوچھا اور وہیں سے ٹیلیفون ڈائریکٹری دیکھ کران کے ٹیلیفون نمبر کا پتہ کیا۔میں نے برادرم عبد الحمید سالکین صاحب سے کہا کہ آپ خود محترم اور نکو صاحب کو ٹیلیفون ل الفصل ۱۸ دسمبر ۱۹۵۶ء صله