تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 412
طرف الوہیت منسوب کی جاسکے کیونکہ اس کی متعدد مثالیں خود بائبل میں آئے دن ملتی رہتی ہیں۔حبیب یہ احمد می نوجوان چرچ کے باہر یہ پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے تو لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ عیسائی مشن ہی کی طرف سے تقسیم کیا جارہا ہے لیکن اسے پڑھتے پڑھتے جب وہ گر جا میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو احمد یشن کی طرف سے شائع شدہ ہے یہ معلوم کر کے چرچ سے ایک شخص باہر چرچ کے گیٹ پر آیا اور ان نوجوانوں کو اس پمفلٹ کے تقسیم کرنے سے منع کیا۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم چرچ سے باہر سڑک پر کھڑے ہیں آپ کو منع کرنے کا کوئی حق نہیں۔آخر اس نے لاجواب ہو کر لوگوں کو منع کرنا شروع کیا کہ وہ ان سے یہ پمفلٹ حاصل نہ کریں مگر انہوں نے کہا کہ مفت پمفلٹ سے کہ پڑھنے میں کیا حرج ہے اور وہ بدستور یہ پمفلٹ حاصل کرتے رہے اور احمدی نوجوان تمام پمفلٹ تقسیم کر کے واپس آگئے۔ازاں بعد جماعت احمدیہ کا دوسرا تازہ پمفلٹ بھی چھپ کہ تیار ہو گیا جس کا عنوان یہ تھا (SECOND ADVENT OF JESUS CHRIST " یعنی مسیح کی آمد ثانی" اس میں حضرت علی علیہ السلام کی قبر کی تصویہ دی گئی تھی یہ اشتاد مختلف جگہوں پر نمایاں طور پر چسپاں کرا دیا گیا اور کثرت تقسیم ہوا جس کی وجہ سے عیسائی طبقہ میں ہلچل مچ گئی بیٹھ جماعت احمدیہ نائیجیریا کی آٹھویں سالانہ کانفرنس ۱۲۵ در ۲۶ دسمبر ۱۹۵۶ء کو لیگوس میں منعقد ہوئی جس میں نائیجیریا کے ہیں احمد می مشنوں کے پانچ سو نمائندوں نے شرکت کی۔افتتاح مولانا نسیم احمدی سیفی صاحب نے ایک مختصر سی تقریر اور لمبی اجتماعی دعا سے کیا۔پہلے اجلاس کی صدارت جناب اے آمر با کارے صاحب مجسٹریٹ نے کی جس میں اگر یہل ایما۔سانی نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے احمدیوں کو ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔دوسرے امور کے علاوہ انہوں نے اس امر پر خاص طور پر زور دیا کہ وہ آزاد نائیجیریا میں مثال شہرت کا نمونہ قائم کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں تاکہ وہ اس بارے میں اہل نائیجیریا کی قیادت کا فرض ادا کہ سکیں جناب اے آریا کارے نے عالمی صورت حال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ جماعت احمدیہ کی کوششوں کے نتیجہ میں مسلمان اپنے فرائض کو سمجھنے اور ان کے شایانِ شان خدمات بجالانے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔الفضل ۲۲ مئی ۱۹۵۷ء ص ۳