تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 395
۳۸۰ جیسے باریک مسائل واضح کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں۔آپ ہمیں معد در سمجھیں یہ اعتراف عیسائت کی کھلی شکست اور اسلام کی واضح کامیابی کا منہ بولنا ثبوت تھا۔یہ کامیاب مباحثہ سعوا گیارہ بجے شب بخیر و خوبی ختم ہواس ۴- ایک جلسہ میں ایک عیسائی فاضل ڈاکٹر بری جنگ نے صرف چار انا جیل کیوں ہا کے موضوع پر تقریر کی جس میں اناجیل کو دلائل کی رو سے غیر مستند قرار دیا گیا۔ان دلائل کو سنکر مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک پادری صاحب نے سوالات کے ذریعہ تقریرہ کے اثر کو زائل کرنے کی ناکام کوشش کی پھر کہا کہ وہ ایک بڑے پادری کو احمدیہ مشن ہاؤس میں تقریر کرنے کے لیے آمادہ کرے گا۔جماعت نے اس پیشکش کو خوشی سے قبول کیا مگر کوئی پادری صاحب سامنے آنے کی جرات نہ کر سکے۔ه - حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب حج عالمی عدالت انصاف ان دنوں ہیگ میں ہی قیام فرماتے ہالینڈ مشن کو دینی سرگرمیوں میں آپ کا خصوصی اور مشفقانہ تعاون حاصل رہا۔مثلاً ملک کے بلند پایہ مجلہ انٹر نیشنل سپیکر کی درخواست پر آپ نے " اسلام اور بین الا قوامی تعلقات" کے موضوع پر ایک فاضلانہ مضمون سپر دو قلم فرمایا جسے ادارہ نے الگ پمفلٹ کی صورت میں بھی شائع کیا۔اگست ۱۹۵۶ء کو جرمنی، فرانس، انگلینڈ، امریکہ ، ایران ، ڈنمارک، ترکی ، پولینڈ اور ہالینڈ کے متعدد طلبا ر مشن ہاؤس میں آئے۔آپ نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے جماعت کا تعارف کرایا۔اتحاد اور امن کے بارہ میں اسلامی نقطہ نگاہ واضح فرمایا اور ان کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دینے کا ہے مبلغ سپین مولوی کریم اپنی صاحب ظفر کی تبلیغی مساعی سے اس سال دس ہسپانوی افراد سین مشن نے قبول احمدیت کی توفیق پائی۔عوام میں اسلام کے متعلق ایسی بچی پیدا ہوگئی کہ روزانہ چار بجے شام کے بعد نہیں چالیس افراد طاقات کے لیے پہنچ جاتے تھے۔آپ ان سے خطاب فرماتے سپین کے نو مسلم احمدی بھائی ان کے سوالات کا ره به وزنامه الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۵۶ء ص ۴/۳ از سه روز نامه الفضل در دسمبر ۹۵۶ اوست درپورٹ حافظ قدرت اللہ صاحب مبلغ ہالینڈ نو سے الفصل 19 دسمبر ١٩٥٦ء۔