تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 394
٣٧٩ کے جھوٹا ہونے کی دلیل بن جاتی ہے۔بہر حال انہوں نے اپنے نظریہ کو اس درجہ معقولیت نرمی اور محبت کے جذبہ کے ساتھ پیش کیا کہ حاضرین متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔اس تقریب کے بعد پادری پاسما نے انٹھ کہ پہلے بڑی لمبی چوڑی تمہید باندھی۔اور پھر خالص فلسفیانہ انداز میں ادھر اُدھر کے چکر دے کر کسی قدر مہم سے پیرائے میں الوہیت مسیح اور تثلیت کے تو ان میں بائبل کی چند ایک عبارات پیش کی۔اور اس طرح اپنا وقت ختم کر دیا۔پادری موصوف کی تقریہ سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ الوہیت مسیح کے دعوی کو واضح طور پر پیش کرنے اور اس کا صاف صاف اقرار کرنے میں تامل کر رہے ہیں۔کیونکہ اس دعوی کو پیش کر کے اس کے دلائل کے میدان میں پیش آمدہ مشکل سے عہدہ بسا ہونا کوئی آسان کام نہیں تھا۔یا دری صاحب موصوف کی اس تقریہ سے حاضرین کو مایوسی ہوئی۔مگر اصل بحث کا میدان آگے آیا۔جبکہ احمدیہ وفد کیطرت سے پادری صاحب موصوف پر جرح شروع ہوئی جس میں مولانا ابو بکر الیوب صاحب اور مسٹر عبد اللہ خانصاحب ارنک نے خاص طور پر حصہ لیا۔پادری صاحب موصوف نے اپنی تقر یہ ہیں گو بڑی ہو شہاری سے براہ راست سحبت کے موضوع پر بولنے سے گر ینہ کی راہ اختیار کی۔اور کوئی دعوی بھی معین طور پر پیش نہ کیا تھا تم احمدی مقررین کی طرف سے ان کی ہر بات کا اور ہر اشارے کا ایسا مدل جواب دیا گیا۔کہ ان کا تمام بیان بے حقیقت ہو کہ رہ گیا۔نمائندگان کی باہمی بحث اگر چہ بہت دلچسپ معلی مگر اس نے خاصہ دقت سے لیا۔حتیٰ کہ پیلک کے لیے سوالات کا موقعہ بہت کم رہ گیا۔تاہم انہیں محرم رکھنا بھی مناسب نہ سمجھا گیا۔اس لیے کوئی نصف گھنٹ کے قریب وقت دیا جا سکا۔اس مباحثہ کے موقع پر بھاری اکثریت عیسائیوں کی تھی جن میں صرف چند گنتی کے احمدی تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ سارا وقت احمدی ہی مباحثہ پر چھائے رہے۔رہے۔عیسائی نمائندے کی ہے لہسن کا یہ عالم تھا کہ اس نے صاف کہ دیا کہ مذہبی عقائد میں عقل کا دخل نہیں۔اس پر احمدی و مد نے ان پر زبر دست تنقید کی اور یہ کہ کر انہیں بالکل خاموش کرا دیا کہ اگر آپ لوگ دلائل سے کسی حقیقت کو ثابت کرنے کے قائل نہیں تو تبادلہ خیالات اور مشنریوں اور پادریوں کو باہر بھجوانے کے کیا معنے۔آپ لوگ اپنے عقائد کو لے کر اپنے گھروں میں کیوں نہیں بیٹھ جاتے۔یہ ایسی معقول بات تھی کہ کیتھولک نمائندہ کو مباحثہ کے آخر میں یہ اعتراف کرنا پڑا۔کہ دراصل الوہیت اور تثلیث