تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 393
مسلم مشن کی طرف سے اس بحث میں حصہ لیں گے۔اور بحث کا طریق یہ ہو گا کہ پہلے احمدی اسلامی نقطہ نگاہ سے مقررہ موضوع پر 10 منٹ تقریہ کریں گے۔اور پھر کیتھولک گروپ کا نمائندہ اس بارے میں اپنے خیات حاضرین کے سامنے پیش کرے گا۔اس کے بعد یہ دونوں گروپ ایک دوسرے سے وضاحت طلب امور کے مطابق اگہ کچھ پوچھنا ہو تو استفسار کریں گے۔اور پھر وقفہ کے بعد ملک کو سوالات کا موقع دیا جائیگا۔احد پر کشن کے لیے ایسی دعوت طبعی طور پر بڑی مسرت کا موجب بھی۔چنانچہ اسے قبول کر لیا گیا۔اور اس کے لیے تیاری شروع کر دی گئی۔عالینڈ کے مذہبی ماحول میں ایسے مباحثات اور تبادلہ خیالات کے واقع ہمیشہ ہی بڑی دلچسپی کا موجب ہوتے ہیں۔خصوصاً جب کہ ایک فریق اسلام کا حامی ہوا اور دوسرا عیسائیت کا اور کوئی مشہور مقررہ ایسے مباحثات میں حصہ لے رہا ہو تو پبلک کی دلچسپی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔جیسا کہ اس مباحثہ میں ہوا۔کیونکہ لیتھولک گروپ کے ایک مشہور اور قابل باوری یا تھا اس میں حصہ لے رہے تھے۔جن کی تاہمیت پورے ملک میں مسلم تھی۔جماعت احمدیہ کی طرف سے جو ہ افراد تجو یہ ہوئے ان کے نام یہ ہیں۔مولانا ابو بکر البوب صاحب سماڑی۔حافظ قدرت اللہ صاحب۔میں ناصرہ نرمان مسٹر عبد اللہ خان اونگ۔مسٹر عبد اللطیف دی میدان۔ابتدائی تقریر کے لیے مسلمہ مکرم عبد اللطیف دی میدان کا نام تجویہ کیاگیا۔جنہوں نے اس کام اور اس کی ذمہ داری کو خوشی سے قبول کیا۔اور نہایت احسن رنگ میں اسے سرانجام دیا۔مباحثہ کے لیے دریچے شام کا وقت مقرر تھا۔مگر لوگ اس خیال سے کہ ہال کی جگہ کہیں پہ نہ ہو جائے ساڑھے سات بجے ہی آنا شروع ہو گئے۔اور وقت سے پہلے ہی بال کھچا کھچے بھر گیا۔اور بعد میں آنے والوں کو کھڑا رہنے کے سوا چارہ نہ رہا۔آخر وہ وقت جسکا پبلک بڑی بے تابی سے انتظار کر رہی منفی آن پہنچا۔اور احمد می نمائندہ نے اپنی تقریر شروع کی۔انہوں نے یہ امر واضح کیا کہ مسیح کا وجود ہمارے لیے کوئی غیر محور نہیں۔بلکہ مسیح پر ایمان لانا اور اس کا ویسے ہی احترام کرنا جسے ہم دوسرے انبیاء کا احترام کرتے ہیں ہمارے عقاید اور ایمانیات کا جزو ہے۔اور ہم اسے قرآنی تعلیم کی رو سے اعلی روحانی صفات سے متصف قرار دیتے ہیں اس کے بن باپ ولادت کے قائل ہیں۔اور آپ کی والدہ کو نہایت پاکباز اور اعلیٰ روحانی صفات سے متصف یقین کرتے ہیں۔مگر ان کی الوہیت کے بارے میں ہم آپ کی ہمنوائی کرنے سے قاصر ہیں۔کیونکہ یہ چیز نہ عقل سے ثابت ہے نہ نقل سے اس طرح ہم مسیح کی صلیبی موت کے بھی قائل نہیں۔جو بائبل کی رو سے اس کے لعنتی اور اس