تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 390
۳۷۵ شور میں بیرونی مشنوں کی تبلیغی سرگرمیاں جماعت احمدیہ کے بیرونی مشنوں نے اس سال اپنی تبلیغی سرگرمیاں تیز تر کر دیں جیسا کہ آئندہ تفصیل سے عیاں ہوگا۔لنڈن شن ا سیدنا حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر ستمبر 90 سے جماعت احمدیہ لنڈن نے برا توار کو با قاعدہ اجلاس شرو ع کر دیئے تھے جن میں غیر مذاہب کے بعض نمائندوں کو تقریہ کے لیے دعوت دی جاتی تھی۔چنانچہ پادریوں ، پارلیمنٹ کے مہروں اور یونیورسٹیوں کے پر دینیروں کو لیکچر " کے لیے مدعو کیا گیا۔یہ مفید تبلیغی سلسلہ ۱۹۵۶ء میں بھی زور شور سے جاری رہا۔چنانچہ لنڈن مشن نے متقد و تقاریب کا اہتمام کر کے کئی اہم شخصیتوں تک پیغام حق پہنچا یا۔بعض اجلاسوں کا تذکرہ دلچسپی سے خال نہ ہوگا۔۔۱ - ۲۹ جنوری کو MR۔DRISKELL چائے پر مدعو تھے۔ان کے ہمراہ پانچ افراد بھی تھے انہوں نے SONSHIP OF JESUS CHRIST OF GOD پر اپنا نقطہ نگاہ میں کی۔مواد احمد خاں صاحب امام بیت الفضل لنڈن نے قرآن کریم کی رو سے واضح کیا کہ یہ نقطہ نظر غلط ہے۔میر عبدالسلام صاحب نے ثابت کیا کہ بائبل کی صحت مشکوک ہے اس لیے اس پر کسی دعومی کی پہیل ٹھہرانا غلط ہے ۲ - ۱۲ فروری کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے پر وفیسر اور برطانیہ کے مشہور قانون دان MEHART نے سزائے موت کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔آپ کے لیکچر کے بعد امام بیت الفضل لنڈن نے اسلامی قانون میں سزائے موت اور اس کی پیر حکمت شرائط اور اسلامی قصاص کے مختلف پہلو ڈنی پر روشنی ڈالی۔۲۶-۳ فروری کو احمدیہ سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک اجلاس میں سٹر COMMONT JORDINE دو تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے ان کا تعارف کرایا جس کے بعد صاحب موصوف نے عیسائیت کے تین عظیم تہواروں پر اپنا مذہبی نقطہ نگاہ پیش