تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 384
۳۶۹ سے زبانی بھی کہا جب کہ وہ دفتر ریاست میں تشریف لائے میں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں کو پاسپورٹ دیئے گئے اور یہ لوگ اپنے عزیزوں اور مذہبی رفیقوں سے ملنے کے لیے ربوہ (پاکستان) گئے۔اس سلسلہ کی اب تازہ اطلاع ہے کہ قادیان کے ایک احمدی لیڈر ملک صلاح الدین ایم اے کے حقیقی چھوٹے بھائی پانچ چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر ربوہ میں انتقال کر گئے اور ان کی والدہ بیمار ہیں اور ان کا فرمن تھا کہ یہ اس موقع پر وہاں پہنچنے گھر آپ نے جب پاسپورٹ کی تجدید کے لیے درخواست کی تو ان کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا گیا اور یہی سلوک دوسرے احمدی اصحاب کے ساتھ کیا جارہا ہے جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پاسپورٹ کا غذی کا رہ والی اور مقامی ملازموں کی رپورٹ کے بعد دیا جاتا ہے اور چونکہ یہ لوگ مسلمان ہیں کوئی سکھ یا بند و لازم نہیں چاہتا کہ ان کے لیے سہولت بہم پہنچائی جائے اور کانفی ڈنشل رپورٹیں ان کے خلاف کر دی جاتی ہیں۔اگر کسی بھی احمدی کے خلاف کوئی سیاسی شکایت ہو تو اس کو پاسپورٹ نہ دیا جانا چاہیے مگر یہی صورت میں کہ یہ لوگ سیاسیات سے قطعی بے تعلق ہیں اور احمدی خالص مذہبی جماعت اور مہند دستان کی وفا شعار ہے اس جماعت کی اس پوزیشن میں احمدیوں کو پاسپورٹوں کا نہ دیا جانا النضات فرار نہیں دیا جا سکتا اور ہمار می خواہش ہے کہ پنجاب گورنمنٹ احمدی حضرات کی اس تکلیف پر ہمدردی کے ساتھ غور کرے اور اگر کسی بھی احمدی کے خلاف پولیس یا مقامی افسروں کو شکایت ہو تو یہ معاملہ کسی جوڈیشل افسر کے سپرد کر دیا جائے تا کہ یہ معصوم اور بے گناہ لوگ کا نفی ڈنشل رپورٹوں کا شکار نہ ہوں اے ۱۹۵ء میں کانگریس کے اجلاس امرتسر کے موقع پر جماعت احمدیہ قادریان مقدمه کنج بهاری الان الی ان سے ایک ریکی و آسانی تحفہ کےنام سے شائع کیا گیا۔اس کے جواب میں ایک معاند سلسلہ کنج بہاری لال نے ایک نہایت دل زار ٹریکٹ دور زمین کی پکارہ شائع کیا۔اس پر حکومت کی طرف سے اس کے خلاف زیر دفعہ ۲۹۵ الف مقدمہ دائر کیا گیا۔اس مقدمہ میں مولوی برکات احمد صاحب را جیکی ناظر امور عامہ اور ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے کی طویل شہادتیں استخانہ کی طرف سے ہوئیں۔اور یہ مقدمہ تقریبا اڑھائی سال تک جاری رہا۔مقدمہ میں کنج بہاری لال نے سیدنا ره هفت روزه ریاست دہلی ۱۶ار دسمبر ۱۹۵۶ دسته کانم ۲ تا ۴