تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 381
"" اس حالت پہیہ۔ظفر علی خاں سات آٹھ سال مختلف امراض میں مبتلاء رہنے کے بعد ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ء کو صبح کے وقت اس احسان فراموش اور بے وفاؤں کی دنیا سے اپنے ابدی وطن کی طرف روضت ہو گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُونَ۔آه ظفر علی خاں جو وقت کا سب سے بڑا صحافی صاحب طرز ادیب آتش نوا مقرر - مغله بیان شاعر اور ہنگامہ پہ در سیاست دان تھا۔اپنے آبائی گاؤں کرم آباد میں نہایت خاموشی سے چند عزیزوں کے درمیان اپنی اہلیہ کے پہلو میں دفنا دیا گیا۔ظفر علی خاں جس کی گاڑی ہزاروں مسلمانوں نے اپنے ہاتھوں سے کھینچی تھی۔جس کے جلوسوں میں میں ہزاروں فرزندان اسلام اس کے استقبال کے لیے دیدہ و دل فرش راہ بنا دیا کرتے تھے۔جب اس کا جنازہ اٹھایا گیا تو اس میں گنتی کے چند آدمی تھے اور جب اُسے لحد میں اُتارا گیا تو اُس کے عزیزوں کے ماسوا اور کوئی دوسرا نہ تھا۔آہ ! ہنگاموں اور گھر کیوں کو جنم دینے والا ظفر علی خان کسی بے بسی اور بے کسی کے عالم میں رخصت ہوا عفر علی خان زندہ باد کے نعرے لگانے والوں میں سے کوئی بھی اُسے آخری الوداع کہنے کے لیے اس کے جنازہ پر موجود نہیں تھا۔اس کی موت پر نہ کوئی مہنگامہ ہوا نہ ہڑتال نہ جلسہ منعقد کیا گیا نہ اس کی جدائی میں کسی کی آنکھ نمناک ہوئی۔نہ سرکاری دفاتر بند ہوئے نہ سرکاری عمارت پر تھنڈے سرنگوں ہوئے۔نہ آپ کی یاد گار کو قائم رکھنے کے لیے کسی ہسپتال، کسی لائبریری۔کسی دانش گاہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔اور نہ اُسے زندہ وجاوید رکھنے کے لیے اس کی کتب کی اشاعت و طباعت کا کوئی سرکای یا غیر سرکاری طور پہ انتظام کیا گیا۔نہ مرہ قومیں اپنے بہادروں اور مجاہدوں کو کبھی فراموش نہیں کہ ہیں اور انہیں زندہ رکھنے کے لیے ایسی یادگاریں قائم کرتی ہیں کہ جو آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ ہوتی ہیں۔لیکن ظفر علی خاں سے اُس کے ہم وطنوں نے جو سلوک کیا وہ احسان فراموشی کی ایسی گھناون مثال ہے کہ جس پر آنے والی نسلیں ہمیشہ اظہار نفرین کر تی رہیں گی ہے له مولانا ظفر علی خان - مؤلفہ جناب محمد شرف خان عطاء مکتبہ کا اردوان کچہری روڈ لاہور۔جنوری ۱۹۶۲ رم ۲۸ ناصر ۲۹ - مطبع اردو پریس لاہور - -