تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 380
۳۶۵ کسمپرسی کے عالم میں اپنی زندگی کے آخری دن گذارے۔حضرت مصلح موعود کو علم ہوا۔تو آپ برداشت کر سکے اور ڈاکٹر غلام مصطفے صاحب کو بغرض علامنا ہوا یا۔اور ادویہ کے لیے اپنی جیب خاص سے رقم مرحمت فرمائی۔اس سلسلہ میں جناب عبد الحکیم صاحب عامر کا بیان ہے کہ ایک سال پیشتر جب آ فا صاحب ( شورش کا شمیری صاحب مدیر جنان - ناقل) سخت علیل تھے قادیانیوں کے روحانی پیشوا نے ایک پیغام کے ذریعے آپ کو غیر ملکی دوائیوں کی پیشکش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا ظفر علی نان کی علالت کے دنوں میں، جب کہ وہ ترکی میں مقیم تھے ، قادیانیوں کے روحانی پیشوا سے مولانا کو بھی اس قسم کی پیشکش کی گئی تمھتی ہے جناب محمد اشرف خاں عطاء صاحب نے مولانا ظفر علی خاں صاحب کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:- یہ دنیا کتنی ہے وفا ہے جس ملک کو حاصل کرنے کے لیے اس نے اپنی زندگی کی تمام متاع عزیز داد پر لگادی۔جن مسلمانوں کی خاطر اس نے ہر قسم کے سو روزیاں سے بے نیاز ہو کہ قربانی دی جب وہ ملک بنا اور آزاد ہوا۔جن لوگوں کی آزادی کی خاطر اس نے مسلسل اور لگا تار مصیبتوں ، صعوبتوں اور مشکلوں کا سامنا کیا تھا۔جب وہ مسلمان آزاد ہوئے۔انہوں نے کبھی بھول کر بھی دریافت نہ کیا۔آزادی کا بیاک سپاسی نڈر علم بر دار ظفر علی خاں کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔ظفر علی خاں جو زندگی میں طوفان تھا۔برسے پاؤں تک ہنگامہ تھا مسلسل حرکت تھا۔۱۹۴۸ء سے لیکر ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ د تک لگا تارہ آٹھ سال زندگی اور موت کی کشمکش میں چار پائی پر پڑا رہا۔ارباب اقتدار کے موٹر فراٹے بھرتے ہوا سے باتیں کرتے ، خاک اُڑاتے اس کے مکان کے سامنے سے گزرتے رہنے لیکن جن لوگوں کو ظفر علی خاں اور اس کے ساتھیوں کی قربانیوں کی بدولت آزادی کے بعد مسند اقتدار ملی تھی انہوں نے کبھی پھوٹے منہ سے بھی اس مرد بیمار سے اظہار ہمدردی نہ کیا۔اُن کے ایوانوں میں رقص و سرور عیش و نشاط رباب دمشراب کے ڈرامے کھیلے جاتے رہے لیکن ظفر علی خاں کا گھر آزاد ہونے کے بعد بھی ظلمت کدہ رہا۔تف اسے فلک ناہنجار - لف اے خود غرضوں اور ابن الوقتوں کی دنیا۔تف ہے تیری له مراد حضرت خلیفة المسیح الثالث : کہ نوائے وقت ۳۰ اکتوبر ۱۹۷۵ ءمت کام ۳