تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 377 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 377

Pyp " کے پرچہ جلد نمبر ۱۶ کا ذکر کیا ہے میں میں ایک خط شائع ہوا ہے۔آپ نے اس خط کو اپنے موکل مرزا ناصر احمد صاحب پر نسپل تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا حامل قرار دیا ہے کہ جو بینہ طور پر غیر ذمہ دارانہ در بدمینی پر مبنی ہوتے ہوئے ان کی شہرت اور عزت کو نقصان پہنچانے والا ہے۔اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اگر یہ ہم مذکورہ بالا اخبار اپنے پولیس میں کچھ عرصہ چھاپتے رہے ہیں تاہم ہم نے کہ تاہم ہم ۵ استمبر ۱۹۵۶ ء سے اس اخبار کو محض اس وجہ سے چھاپنا ترک کر دیا ہے کہ یہ اخبار احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیز - طنز تمسخر اور بہتان آمیز بائیں شائع کرتا تھا۔لہذا التماس ہے کہ آپ اس بارے میں ہمیں درمیان میں لائے بغیر کو ہستان والوں کو براہ راست مخاطب کریں۔اس کے پرنٹر نہ ہونے کی حیثیت سے جہاں تک ہمارا تعلق تھا ہم شہرت کو نقصان پہنچانے والے مبینہ خطہ کی طباعت کے لیے غیر مشروط طور پر معذرت خواہ ہیں آپ کا مخلص برائے الامان پر ہیں۔دستخط محمد (اظہر الدین )۔مالک سے ۲۲ ستمبر ۱۹۵۶ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول کی اولڈ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام بوائز الیسوسی ایشن کا اجلاس منعقد ہوا۔جس میں حضرت اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے نام مرزا بشیر احمد صاحب کا مندرجہ ذیل پیغام سنایا گیا۔مرزابشیراحمد : دیگر می دختری بینڈ ماسٹر صاحب تعلیم الاسلام ہائی اسکول سے یوہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ آپ کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ ۲۳ رستمبر ۱۹۵۶ء بروز اتوار شام کے بارہ بجے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ( OLD BOYS) کا اجلاس ہو گا۔اور آپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اس موقع پر میں بھی ایک مختصر سا پیغام ارسال کر کے اس اجلاس کی غائبانہ شرکت کی سعادت حاصل کروں۔جیسا کہ میں پہلے بھی آپ کو لکھ چکا ہوں۔درس گاہوں کے اولڈ بوائزہ کی ایسوسی ایشن درسگاہوں کی ترقی اور ان کے روایات کو زندہ رکھنے کے لیے ایک مفید نظام ہے۔اولڈ بوائز کے لفظی معنی تو عمر رسیده سابق طلباء کے ہیں مگر دراصل اس کے ایسے پختہ کار سابق طلبا ء مراد ہیں جو اپنی درس گاہ کے له روزنامه الفضل ربوه ۱۹ اکتوبر ١٩٥٦ د مل