تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 375 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 375

لہروں کا مقابلہ کرتا رہا اور آخر کار اس لڑکے کو کنارے پر لگانے میں کامیاب ہو گیا اب اس کا اپنے آپ کو بچانا باقی تھا پانی کا چڑھاد یکدم تیز ہو گیا اور طوفانی لہریں شدت اختیار کرتی گئیں۔رسہ پکڑنے والے پانی کے چڑھاؤ سے ڈر گئے اور رسہ چھوڑ کر پیچھے بہت گئے حفیظ ان طوفانی لہروں اور پانی کے تھپیڑوں کا کافی دیر مقابلہ کرتا رہا مگر شومئی قسمت سے رسہ ایک بجلی کے کھمبے سے لپٹ گیا اور حفیظ کی زندگی ا اور موت کے درمیان حائل ہو گیا۔اس نے بڑے زور سے رسے کو جھٹکے مارے اور دہ اس میں کامیاب ہو گیا مگر متواتہ دو گھنٹے اس خطر ناک پانی کا مقابلہ کرتے کرتے اس کے ہاتھ پاؤں ہار گئے آخر ایک شدید طوفانی لہرا سے ساتھ بہا کر لے گئی اور اس طرح اس خونی ندی نے ایک با ہمت احمدی نوجوان کی جان لے لی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا رَلِيْهِ رَاجِعُونَ - تماشائی دور کھڑے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔مگر کسی نے ہمت نہ کی کہ وہ اس بہادر نوجوان کی کچھ مددکر سکیں۔جب یہ احمدی نوجوان اپنے آپ کو لہروں کے حوالے کر چکا تب چند خدا ترس لوگوں نے اس کی لاش کا تعاقب کیا اور تین گھنٹے کی مسلسل کوشش سے لاش کو پانی سے نکالا۔حفیظ احمد صاحب کے ڈوبنے کی اطلاع ان کے گھر 9 بجے صبح پہنچا دی گئی ان کے والد ڈیوٹی پر گئے ہوئے تھے۔محلہ کے دو احمد می نوجوان موقعہ پر جلدی پہنچ گئے۔جنہوں نے دو غیر احمدی احباب کی مدد سے لاش کو گھر پہنچایا۔اس اچانک اندوہناک حادثہ سے گھر میں کہرام مچ گیا۔شہر اور صدر کی مستورات حفیظ کے گھر ٹوٹ پڑیں۔اور کوئی آنکھ نہ تھی جو پریتم نہ ہو۔اور کوئی دل نہ تھا جو اس جواناں موت کو دیکھ کر خون کے اور نہ بہا رہا ہو۔حفیظ کی لاش دیکھ کہ ایسے معلوم ہوتا تھا۔جیسے وہ کوئی کار نمایاں انجام دے کہ سیٹی نیند سو رہا ہے۔اس نے بلا شبہ ایک بہت بڑا کام انجام دیا۔اس نے اپنی عزیز جان کی قربانی دے کر ایک انسانی جان بچائی۔اس مثالی قربانی کی خبر را ولپنڈی کے اخبارات میں شائع ہوئی یے له الفضل ۸ راگست ۱۹۵۶ء ملت