تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 372 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 372

۳۵۷ باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں چنانچہ اس میں ذکر آتا ہے کہ فلاں دوست نماز تہجد کے بعد کچھ دیر کے لیے لیٹ گئے تو انہوں نے یہ نظارہ دیکھا جس سے معلوم ہوتا ہے وہ باقاعدگی سے تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔پھر انہوں نے ایسی ایسی بھی خواہیں دیکھی ہیں کہ پڑھ کر حیرت آتی ہے ایک دوست بیان کرتے ہیں کہ ایک رات جب کہ میں نماز تہجد کے بعد کچھ دیر کے لیے لیٹ گیا میں نے رڈیا میں دیکھا کہ دو شخص جنہوں نے لمبے لمبے چونے پہنے ہوئے ہیں آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مشرق سے آئے ہیں اور تمہیں بشارت دیتے ہیں کہ جبس مہدی کا دیر سے انتظار کیا جارہا تھا وہ آچکا ہے چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد ہمارے شہید مولوی نذیر احمد صاحب علی رہو اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں اس کی دین کی خدمت کرتے ہوئے فوت ہوئے ہیں یقیناً شہید ہیں) وہاں آئے انہوں نے اس وقت دلیسا ہی لباس پہنا ہوا تھا جیسا خواب میں انہیں دکھایا گیا تھا۔چنانچہ ان کی تبلیغ پر اس دوست نے بیعت کر لی اس طرح ایک اور دوست لکھتے ہیں کہ ان کے پیر نے انہیں بنایا ہوا تھا کہ مہد می ظاہر ہو چکا ہے سیکن بیاں نہیں کسی اور ملک میں ظاہر ہوا ہے عنقریب اس کے ظہور کی خبر اس ملک میں بھی پہنچنے والی ہے اس کے چند سال بعد مولوی نذیر احمد صاحب مسلی رہاں گئے جنہوں نے احمدیت کی تبلیغ کی اور وہ ایمان سے آیا۔ایک اور دوست نے بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسجد کے ارد گرد سے گھاس اکھیڑ رہا ہوں پھر کچھ دیر آرام کرنے کے لیے میں ایک درخت کے نیچے کھڑا ہوگی اتنے میں میں نے کیا دیکھا کہ ایک اجنبی شخص قرآن کریم اور بائبل ہاتھ میں پکڑے ہوئے میری طرف آیا اور اس نے مجھ سے باتیں شروع کر دیں اس خواب کے ایک ہفتہ بعد ٹھیک اس طرح میں کدال ہاتھ میں لے کر مسجد کی صفائی کر رہا تھا کہ میں نے منھ کان محسوس کی اور ایک درخت کے نیچے چلا گیا ابھی چند منٹ ہی گذرے تھے کہ سامنے سے مولوی نذیر احمد صاحب علی آگئے اور انہوں نے مجھ سے رہائش وغیرہ کے لیے جگہ دریافت کی میں نے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہی وہ شخص تھے جو مجھے خواب میں دکھائی دیئے تھے چنانچہ میں نے انہیں اپنا گھر رہائش کے لیے پیش کر دیا اس کے بعد میں نے اور لوگوں کو بتایا کہ "