تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 23 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 23

۲۳ قادیان سے نکالاگیا۔اور پاکستان پہنچے کہ اپنے باغی مشن کو جاری رکھنے کے لئے احمد یہ بلڈنگس لاہور میں پہنچ گیا۔گھر پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا ہیا اللہ رکھا کی ان احمدیت دشمن سرگرمیوں پرایک نظر ڈالنے کے بعد دوبارہ ہم اصل مضمون کی طرف آتھے ہوئے بتاتے ہیں کہ ابنائے حضرت خلیفہ اول اور منکرین خلافت کا یہ پروردہ اور ایجنٹ تاریخ ت میں ایک سوچی سبھی سکیم اور سازش کے تحت احمدی جماعتوں میں فتنہ پھیلانے اور میاں عبد المنان صاحب کی نام نہاد خلافت کی راہ ہموار کرنے کے لئے صوبہ پنجاب ، صوبہ سرحد اور آزادکشمیر کے طوفانی دورے پر نکل کھڑا ہوا۔اور سر گو وہی بھیرہ، بھلوال، ملکوال، پنڈ دادنخاں چکوال، جہلم ، کھیوڑہ ، چوہا سیدن شاہ ، بہاولپور ، ڈیرہ غاری خان اور مری میں منافرت انگیز پراپیگنڈا کرنے میں سرگرم عمل رہا پانچ ناہ کے اس دورہ کے دوران یہ شخص خدا کی پیاری جماعت میں زہریلے خیالات پھیلا تا ر یاسین مظفر آباد میں اس نے کہا کہ حضرت صاحب کی صحت خرا ہے۔بات بہت بڑھ گئی ہے اور دہ اب خلافت کے قابل نہیں ہیں یہ سر گو ریا کی بہت احمدیہ میں امیر صوبائی مرزا عبدالحق صاحب کے خلاف اس نے سمنت بد زبانی کا مظاہرہ کیا۔اور کہا کہ احمدیوں کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے سیتے کوھاٹ میں اس نے مربی تسلسلہ مولوی عبد المالک صاحب سے کہا کہ ایک بہت بڑا انقلاب اور عذاب آنے والا ہے۔اور اگر اس کے بعد میاں ناصر احمد صاحب خلیفہ بن گئے۔تو میں قطعاً اُن کی بیعت نہیں کروں گا۔نیز غیر مبائعین کے صدر میاں محمد لائلپوری کی۔بہت تعریف کی ہے ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ سے بیان مختار احمد صاحب بٹ کشمیری مظفر آباد۔آزاد کشمیر مورخه ۱۶ را اگست ۵ه : سه بیان میاں عطا محمد صاحب ننگلی مقیم سر گود نا۔که بیان مولوی عبد المالک انشا بر سر بی جماعت احمدیہ کو ہاٹ ۲۶ جولائی ۱۹۵۶