تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 364
۳۴۹ یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ انہیں دنوں مباہلہ کا چیلیچ مولوی سید ابوالاعلی مودودی صاحب کو بھی دیا گیا۔جس پر انہوں نے جواب دیا کہ : ر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں مباہلہ کا صرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک واقعہ ملتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے۔کہ اسلام نے مباہلے کو نزاعی امور کے فیصلے کا مستقل طریقہ قرار نہیں دیا ہے۔کہ جب کبھی کسی کا فر با مسلمان سے کسی قسم کا اختلاف ہو تو فوراً مباہلے کی دعوت دے ڈالی جائے۔ہمیشہ در مناظرین نے آجکل مسا مے کر کشتی کے داؤں میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا ہے لیکن پوری تا به یخ اسلام میں سیا حملے کی دعوت دینے اور اسے قبول کرنے کی مثالیں مشکل ہی سے مل سکیں گی سے یڈ کانفرنس اور مارچ سے د مارچ تانک کا سیٹو کا نفرنس کے مندوبین کو دعوت اسلام) کراہی میں جاری رہی۔جماعت احمدیہ کراچی کے بقیہ حاشیہ مت ۳۴ سے آگے) لہ المنیر ۲۳ فروری ۱۹۵۶ء منا لے منظور احمد چینوٹی کا بیان ہے کہ : - سیری د استاذی محدث العصر حضرت علامہ بنوری رحمتہ اللہ علیہ ایک حج کے موقعہ پر مدرسہ صدیقہ مکہ مکرمہ حضرت شیخ قدس سرہ کی ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔راقم آثم بطور خادم حضرت کے ساتھ تھا۔حضرت بنوری رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت شیخ سے فرمایا کہ آپ سے تنہائی میں ایک اہم مسئلہ پر بات کرنی ہے۔حضرت نے تمام حاضرین اور خدام کو اٹھا دیا۔ایک حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب اور ان کا ایک فارم ایک حضرت شیخ الحدیث خود تھے۔چوتھے حضرت مولانا یوری اور پانچواں ان کا یہ خادم را قم آئم دیاں موجود رہ گئے۔حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے مودودی صاحب کی تقریبات کے فتنہ انگیز پہلوؤں پر بات چیت شروع کی۔آپ نے فرمایا۔مودودی صاحب کے الحادی نظریات کا فتنہ اور اس کا خطرناک زہر مہر جگہ پھیلتا جارہا ہے اور اسب غرب مالک بھی اس کی لپیٹ میں آنے لگے ہیں۔اور وہ مودودی کے خلاف کسی کی بات نہیں سنتے سے ر دینی نگر من یه نا شهر اداره مرکز یه دعوت دار شاد چنیوٹ پاکستان مطبوعہ جولائی ۱۹۸۳د) کے ترجمان القرآن اگست ۱۹۵۶ء بحواله رسائل ومسائل حصہ چہارم ص ۳۲ ناشر اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ لاہور