تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 20 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 20

راہ ہموار کرنے کی خاطر ایک غیر مبائع ایجنٹ خفیہ طور پر ملک بھر کی احمدی جماعتوں کے طوفانی دور سے کے لیے مقرر کیا جا چکا تھا۔یہ ایجنٹ اللہ ر کھا نانی تھا۔جو گھٹیا میاں ضلع سیالکوٹ کا باشندہ تھا۔اور 20ء سے احمدیہ بلڈنگس لاہور میں ملازم تھا۔جیسا کہ روز نامہ امروز ۲۱ مئی ۱۹ء کے صہ پر اُس کے شائع شدہ مکتوب کے درج ذیل الفاظ سے واضح ہے۔میں شاہ سے امیر مرحوم مولانا محمد علی) کے ارشاد کے مطابق احمدیہ بلڈنگیں لا ہور میں مقیم ہوا۔اور لٹریچر تقسیم کرنے کا کام شروع کیا۔کھانا کام دو۔۔اور رہائش کا انتظام لنگر خانے سے تھا۔لہ تھا قیام پاکستان سے قبل لنگر خانہ قادیان میں ملازمت کر چکا تھا۔وہ دار الشیوخ کے لیے آٹا اکٹھا کیا کرتا تھا۔اور ساتھ ہی نظام سلسلہ کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کرنے کا بھی خوگر تھا۔جس پر حضرت مصلح موعود کی طرف سے الفضل ۳۰ مئی ۱۹۴۵ ء م پر یہ اعلان شائع کیا گیا۔"۔۔یہ صاحب ہر شخص پر الزام لگاتے ہیں۔ان کے نزدیک ناظر اگر دورہ پر جاتے ہیں تو کسی کے ہاں جاکر ان کے حق میں رپورٹ کر دیتے ہیں چندہ یہ دیتے ہیں۔تو دفتر کے لوگ کھا جاتے ہیں سیکریڑی اُن کے دشمن ہیں۔الفضل ان صاحب کا دشمن ہے۔اور ہمارے نزدیک یہ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔یا ان کے دماغ میں نقص ہے۔چونکہ یہ پراپیگنڈا بھی کرتے ہیں۔اس لیے اس بارہ میں اعلان کیا جاتا ہے کہ میں جہاں تک انسانی علم ہے ان کو غلطی پر سمجھتا ہوں کا اللہ رکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کے ساتھ گستاخی سے پیش آتا تھا۔ایک بار پٹنہ سے ایک مہمان تشریف لائے۔یہ ظالم اُن کے ساتھ نہ صرف گستاخی سے پیش آیا۔بلکہ انہیں زدو کوب کر کے نہ خمی کر دیا۔تحقیق ہوں تو الزام ثابت ہو گیا جس پر مخدوم محمد ایوب صاب معاون ناظر امور عامہ قادیان نے اُسے بید زنی کی سزا دی۔اور پھر ا سے ملازمت سے برخاست کہ دیا گیا بله ا مراسله مخودم محمد ایوب هاب مرضه ۲۰ اگست ۱۹۴۹ و مراسله دفاتر امور عامه قادیان مورخه ۳ استمبر ۶۱۹۴۹