تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 327 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 327

۳۲۷ کے منہ سے یہ الفاظ اہلی کے بعد آپ وہاں سے گئے۔بظاہر یہ معمولی سا واقعہ ہے۔مگر اس سے محبت کے اس انتفاء سمندر پر کتنی روشنی پڑتی ہے جو اس مرد خدا اور مرد مومن حضرت خلیفہ اول کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خاندان کے لیے موجزن تھا۔اور مشیرہ مبارکہ میگیم کے لیے باہمارے لیے مولوی عبد السلام صاحب عمر یا کسی اور مخلص کا اس قسم کے الفاظ کہنا ہر گنہ کسی مخر کی بات نہیں۔دکن ہے بلکہ ذاتی لحاظ سے میں کر سکتا ہوں کہ خدا کی نظر میں ان کے اعمال ہم میں سے بعض کے اعمال سے بہتر ہوں) مگر یقینا ہمارے لیے اور ساری جماعت کے لیے حضرت خلیفہ اول اور دیگر مخلصین کی وہ محبت موجب صد فخر ہے جو ان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خاندان کے لیے تھی۔اور ہے یہ محبت حضرت مسیح موعود کا عظیم الشان معجزہ ہے۔جس کی قدر و قیمت دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے اللہ تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا ہے۔لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا اتَّفَتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ الله الف بينهم رانفال آیت : (۶۴) میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دور کر کے ہمیں اس مقدس محبت کا اہل بنائے اور ہمیں جماعت کے لیے ہر رنگ میں اچھا نمونہ بننے کی توفیق دے۔آمین یا ارحم الراحمین۔دعا کی عرض سے اس جگہ اس بات کا ذکر نامناسب نہ ہوگا کہ جب جو دھامل بلڈنگ لاہور میں یہ خاکسار مولوی عبد السلام صاحب عمر کا جنازہ پڑھانے لگا تو ابھی میں نے پہلی تکبیر کے لیے ہاتھ اٹھائے ہی تھے کہ مجھ پر کشفی حالت طاری ہوگئی اور میں نے دیکھا کہ میری دائیں جانب سے حضرت خلیفہ اول تشریف لائے ہیں اس وقت آپ کا قد اپنے اصل قد سے کافی لمبا نظر آتا ہے مگر غالباً اپنے بڑے صاحبزادے کی بظا ہر بے وقت وفات کی وجہ سے آپ کا ہم کچھ مجھے کا ہوا اور آپ کا چہرہ کچھ افسردہ تھا۔اس نظارہ کے بعد یہ حالت جاتی رہی۔میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل وکرم سے حضرت خلیفہ اول کی ردح کو جنت الفردوس میں تسکین عطا کرے اور عزیز مولوی عبد السلام صاحب مرحوم کو غریق رحمت فرمائے ادران کے اہل وعیال اور حضرت خلیفہ اول کی دیگر اولاد کا دین د دنیا میں حافظ و ناصر ہوں دروز نامه الفضل ربوه ۲۴ اپریل ۱۱۹۵۶ ۳۰-۴