تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 326 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 326

۳۲۶ سے مسرت ہوں لیکن افسوس اس جذبہ کی تکمیل ہیں موت حائل ہو کر رہ گئی۔در روزنامه الفضل ربوده ۳۱ مارچ ۵۶ مره ( مضمون ملک نذیر احمد صاحب ریاض) ۱۵۶، حضرت مصلح موعود نے آپ کی نمازہ جنازہ پڑھائی۔جس میں ربوہ اور دوسرے شہروں کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ادرس آپ کو حضرت اماں جی کے مزار کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔غلاف کعبہ کا ٹکڑا آپ کے کفن میں بھی شامل تھا۔المفضل ۲۷ مارچ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صا حب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپر و قلم فرمایا :- اس دلی محبت اور قدر و منزلت کی وجہ سے جو میرے دل میں حضرت خلیفہ امسیح الا دل کی ذات والا صفات کے ساتھ تھی اور ہے اس جگہ صرف ایک دافعہ تو مولوی عبدالسلام صاحب کی بچپن کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے بیان کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ اس سے حضرت خلیفہ اول کی اس بے پناہ محبت پر بھی روشنی پڑتی ہے جو آپ کو حضرت مسیح موخور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات کیساتھ تھی۔ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں۔کہ ابھی مولوی عبد السلام مرحوم غالبا چار سال کے تھے اور خود ہمشیرہ مبارکہ بیگم بھی ابھی چھوٹی تھیں کہ ایک دفعہ وہ حضرت خلیفہ اول کے مکان پر قرآن و حدیث کا سبق پڑھنے کے لیے گئیں اس وقت اتفاق سے ہمشیرہ کے پاس بچپن کی عمر کے مطابق کچھ دانے اخروٹ کے تھے مولوی عبد السلام صاحب عمر نے نور و سالی کی بے تکلفی میں ہمشیرہ سے کچھ اخروٹ مانگے اور ساتھ ہی سادگی اور محبت کے رنگ میں کہا " میں تو آپ کا نوکر ہوں ہمشیرہ بیان کرتی ہیں کہ اس وقت اتفاق سے مولوی عبد السلام صاحب کے بڑے بھائی مولوی عبد الحی صاحب مرحوم بھی قریب بہی کھڑے تھے انہوں نے مولوی عبد السلام صاحب کے یہ الفاظ رکہ میں آپ کا نوکر ہوں) سنے تو خوداری کے رنگ میں مولوی عبد السلام صاحب کو ڈانٹا کہ یہ الفاظ مت کہو مولوی عبدالحی صاحب مرحوم کے یہ الفاظ کسی طرح حضرت خلیفہ اول کے کانوں تک پہنچ گئے اور حضور نے اسی وقت مولوی عبدالحی صاحب کو بلا کر فرمایا کہ تم عبد السلام کو ان الفاظ کے کہنے سے کیوں روکتے ہو ؟ اور ساتھ ہی مولوی عبدالسلام صاحب کو تا کیدا فرمایا عبد السلام ! ہم لوگ واقعی حضرت مسیح موعود کے نوکر ہیں تم میرے سامنے اپنے منہ سے کہو کہ میں آپ کا نوکر ہوں چنانچہ مولوی عبد السلام صاب ¦