تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 312
۳۱۲ اللہ تعالیٰ نے حضور کی خاطر پھر دوبارہ خاکسار پر رحم فرمایا اور اپیل فریق مخالفت کی کمشنر صاحب لاہور نے نامنظور کر کے کل واپس کردی فالحمد اللہ والمنہ خاکسار دو ہفتہ کے اندر حضور کی قدم بوسی کے لیے حضور کی خدمت میں پچاس روپے نذرانہ جو پہلے مانا ہوا ہے۔لے کر حاضر ہوگا۔حضور کا نا کارہ غلام خاکسار نظام الدین مستری شہر سیالکوٹ متصل ڈاکخانہ اپنے جنور می نشاء کے سفر جہلم میں جن بزرگوں کو ہر کا بی کا شرف حاصل ہوا۔ان میں آپ بھی شامل تھے آپ کا بیان ہے :۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام جب جہلم تشریف لے گئے تھے۔تو بندہ بھی حضور کی غلامی میں تھا۔حضرت اقدس کو بھٹی کے ایک کمرہ میں فارسی تقریر فرما ر ہے تھے۔بندہ اس وقت حضرت مرحوم شہید حضرت سید عبد اللطیف صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔بندہ تو اتنی فارسی اس وقت جاننا ہی نہ تھا۔کہ حضرت اقدس کے کلمات طیبات کو سمجھ سکے۔مگر شہید مرحوم زار زار ہو رہے تھے۔اور فرماتے تھے من نز دیک تو ذرہ ہے مقدارم تھوڑی دیر کے بعد حضور علیہ السلام کو کوئی صاحبت پیدا ہوئی تو حضور اندر تشریف لے گئے تو مرحوم سید صاحب بھی اٹھنے لگے جونہی آپ اُٹھنے کو تھے تو مفتی محمد صادق صاحب نے فارسی میں کہا صا حبزادہ صاحب آپ تشریف رکھیں حضرت اقدس ابھی پھر واپس آنے والے ہیں۔تو انہوں نے فرمایا ہزار سال کی عبادت سے یہاں بیٹھنے کو بہتر جانتا ہوں۔یہ ان کی فارسی گفتگو کا معلوم تھا جو اپنے کانوں سے سنا تھا۔والسلام کات ۲۱ مامیچ منتشر کو قادیان میں سر جیمز ولسن فنانشل کمشنر تشریف لائے :۔اس موقع پر حضرت اقدس نے اپنی جماعت کے سرکردہ اور سنتول اور صاحب وجاہت اصحاب و بلا بھیجا تھا۔سیالکوٹ سے جو وفد آیا اس میں حضرت ہچو ہدری نصر اللہ خانصاحب ، منشی عبد اللہ صاحب ریڈر سیشن ج اور آپ بھی شامل تھے۔ضروری ۱۹۱۳ء میں دریہ آباد کی بیت کا انتقای عمل میں آیا۔اور اس غرمن کے لیے حضرت خلیفہ اول نے اپنی طرف سے حضرت سید نا محمود کو بطور نمائندہ وزیر آباد بھیجا اس سفر میں سید نا محمود کے ساتھ گاڑی میں آپ حقیقة الوحی صفحه ۳۲۴,۳۷۳ : ۳ جرار ہدایات جلد نمبر ا ص ۱۵۶