تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 311
٣١١ یہ خوش کن خبر پہنچائی۔سماء سے لے کر نشہ تک آپ باقاعدہ جلسہ سالانہ میں شامل ہوتے رہے۔اپریل تشار کے تاریخی خطبہ الہامیہ کے سننے کا شرف بھی آپ کو حاصل ہوا۔۹۰۳اء سل کے دوران آپ ایک خطر ناک مقدر میں ماخور ہوئے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی دعائے خاص کی برکت سے با عزت طور پر بری کر دیئے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں اس نشان کا درج ذیل الفاظ میں خصوصی ذکر فرمایا ہے۔۱۳۹ نشان۔ایک مرتبہ مستری نظام الدین نام ایک ہماری جماعت کے شخص نے سیالکوٹ اپنی جائے سکونت سے میری در خط لکھا کہ ایک خطر ناک مقدمہ فوجداری کا میرے پر دائر ہوگیا ہے اور کوئی سبیل رہا ئی معلوم نہیں ہوتی۔سخت خوف دامنگیر ہے اور دشمن چاہتے ہیں کہ میں اس میں پھنس جاؤں اور بہت خوش ہو رہے ہیں اور میں نے اس وقت ظاہری اسباب سے نومید ہو کہ یہ خط لکھا ہے اور میں نے اپنے دھ میں نذر کی ہے کہ اگر میں اس مقدمہ سے نجات پا جاؤں تو مبلغ پچاس روپے خدا تعالیٰ کے شکریہ کے طور پر آپ کی خدمت ارسال کروں گا۔تب وہ خط اس کا کئی لوگوں کو دکھلایا گیا اور بہت دعا کی گئی اور اس کو اطلاع دی گئی۔چند دن گزرنے کے بعد اس کا پھر خط مع پچاس روپے کے آیا اور لکھا کہ خدا نے مجھے اس بلا سے نجات دی۔پھر چند ہفتہ کے بعد ایک اور خطہ آیا جس میں لکھا تھا کہ سرکاری وکیل نے پھر وہ مقدمہ اٹھایا ہے۔اس بنیاد پر کہ فیصلہ میں غلطی ہے۔اور صاحب ڈپٹی کمشنر نے ایڈووکیٹ کی بات قبول کر کے فیصلہ کو انگریزی میں ترجمہ کر کمر اور سفارش لکھ کہ صاحب کمشنر بہادر کی خدمت میں بھیج دیا ہے۔اس لیے یہ حملہ پہلے سے زیادہ خطر ناک اور بہت تشویش وہ ہے۔اور میں نے اس حالت بے قراری میں پھر اپنے ذمہ یہ نذر مقرر کی ہے۔کہ اگر اب کی دفعہ میں اس حملہ سے بچ جاؤں تو مبلغ پچاس روپے پھر بطور شکریہ ادا کر دوں گا۔میرے لیے بہت دعا کی جائے۔یہ خلاصہ دو نوں خطوں کا ہے جن کے بعد دعاکی گئی۔بعد اس کے شاید ایک دو ہفتہ ہی گزرے تھے کہ پھر مستری نظام الدین کا خط آیا جو بینہ ذیل میں لکھا جاتا ہے :۔بسم الله الرحمن الرحیم محمده ولنقل على رسوله الكريم سیمنا و بهدينا حضرت حجۃ اللہ علی الارض - السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ