تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 310 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 310

۳۱۰ کے تہراہ قادیان پہنچ گئے وہاں حضرت اقدس کی زیارت کی جو نہایت پر نور شکل تھی۔دیکھنے والے پر بغیر اثر کیے نہ رہتی تھی۔اُن دنوں بہت مبارک کے مشرق میں جو چھوٹی کو ٹھڑی ہے وہاں پانی کے گھڑے اور وضو کا سامان ہوتا تھا۔ظہر کی نماز سے پہلے حضرت اقدس تشریف لے آئے۔اور کسی نے کہہ دیا که دو آدمی بیعت کریں گے۔چنانچہ بندہ اس وقت وضوخانہ میں دم کر رہا تھا۔تو حضور نے آواز دی کہ آؤ میاں نظام الدین بیعت کر لو۔بندہ آگے بڑھا اور حضور کے دست مبارک پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی ہے ششماہ میں آپ مستری حسن دین صاحب احمدی ساکن میانہ پور کے ہمراہ قادیان گئے اور اُن کے ساتھ حضرت اقدس کے پرانے گھر کی مرمت اور ریخت میں حصہ لیا اور مہمان خانہ کی پہلی کو ٹھڑی کی چھت وغیرہ ڈالی اُن دنوں آپ کو حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر رہتے کا بہت موقعہ ملا۔دو وقت کا کھانا حضور کے ہمراہ کھانے کی سعادت علی۔اور حضور کے ساتھ شانہ بشانہ نماز پڑھنے کی بھی۔فرمایا کرتے تھے ان دنوں بیت المبارک بہت چھوٹی تھی اور بڑی تنگی سے نمازیں ادا ہوتی تھیں۔نمازوں میں گریہ وزاری اور سوز وگداز کا ایک عجیب عالم تھا۔آپ تین ماہ تک حضرت میر ناصر نواب صاحب کی نگرانی میں تعمیر کی دیمت بجالاتے رہے۔قادیان سے روانگی کے وقت حضرت اقدس نے اُن کی درخواست پر اپنی بعض کتا ہیں اور اپنی پگڑی بطور تبرک عنایت فرمائی۔قیام قادیان کے دوران مئی ، ۱۸۹ء میں حسین کا فی سفیر ترکی تاریان آئے اور حضرت مسیح موعود سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے حضور انہیں الوداع کہنے کے لیے جب ان کے یکے تک باہر میدان میں تشریف لے گئے تو اتفاق سے اس موقع پر آپ بھی موجود تھے۔اسی طرح حضرت سید نا محمود کی تقریب آمین رجون شاہ) میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام اگست شہداء میں گورداسپور کے مقدمہ مارٹن کلارک کی ایک پیٹی بھگت کہ واپس قادیان تشریف لائے اس سفر میں بھی آپ قدرت بجا لانے کے لیے ہمراہ تھے۔اس کے بعد عبد الحمید ستحیث نے جب معافی مانگ لی اور صحیح صحیح بیان دے رہا۔تو حضرت چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر گورداسپور نے یہ خوشخبری سنانے کے لیے آپکے قادیان بھیجا۔چنانچہ آپ حضور کی خدمت میں قادیان حاضر ہوئے۔اور به روایات جلد ۳ مشار م۱۹ "