تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 17
16 چو ہدری صاحب نے سواری بنا کو پڑھایا۔مولوی صاحب کا رنگ زرد ہو گیا۔کچھ سکتے کے بعد فرمانے لگے۔نہیں میں نے نہیں کہا۔چوہدری صاحب نے فرمایا لکھ دیجیے کہنے لگے۔اچھالکھ دیتا 6 ہوں۔چنانچہ ان کے دفتر کا کاغذے کہ مولوی صاحب نے لکھا کہ میں نے ہر گنہ کوئی ایسی بات نہیں کی۔جس کے متعلق حاجی صاحب نے لکھا ہے۔چوہدری صاحب فرمانے لگے۔کیا آپ اب بھی مصر ہیں۔میں نے کہا۔ہاں ! اور مجھے یہ کا غذات دیجیے ہمیں اس پر مزید لکھتا ہوں۔چنانچہ میں نے یہ الفاظ لکھے کہ مجھے سخت صدمہ ہوا کہ مولوی صاحب ایک بزرگ ہستی کی اولاد ہیں جو ہمارے خلیفہ اول رہ چکے ہیں۔انہوں نے صریح جھوٹ بول کر مجھے ہی نہیں بلکہ حضرت خلیفہ اول کی روح کو بھی تکلیف پہنچائی ہے مجھے ان سے یہ توقع نہ تھی۔کہ انکار کریں گے۔مجھے معا خیال ہوا کہ اگر احمدیت کا یہی نمونہ ہے۔تو غیر از جماعت لوگوں پر اس کا کیا اثر ہو گا۔چنانچہ یہ دونوں تحریریں جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب اپنے ساتھ لے گئے بلے سید نا حضرت مصلح موعود بھی کراچی میں ہی تھے کہ میاں عبد المنان عمر صاحب اور اُن کے ساتھیوں نے پراپیگنڈا مشروع کر دیا کہ خلیفہ کس کو بنایا جائے۔اسی زمانہ میں مولوی عبدالونا، صاحب نے حضرت مصلح موعود کی تفسیر کبیر کے درس کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا تفسیر کبیر کا درس نہیں ہونا چاہیے۔کیونکہ یہ ایک فرد کی رائے ہے۔خلیفہ غلطی کرسکتا ہے۔بنیادی مسائل میں خلیفہ سے اختلاف رکھنا جائز ہے۔اور اس اختلاف کے رکھتے ہوئے خلیفہ کی بیعت کر لینا بھی جائز ہے۔حضرت مصلح موعود کی سفر یورپ سے کامیاب وکامران اور بخیر میت والسی کے بعد اگلے سال ۹۵۶ہ کے شروع میں میاں عبد المنان صاحب کی ہمنوا پارٹی کے ایک ممبر نے یہ شاخسانہ کھڑا کر دیا۔کہ ربوہ کا مرکز ی ہسپتال حضرت خلیفہ امسیح اول کے نام سے منسوب کیا جانا سے نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر ص : کے ریکارڈ خلافت لائبریری بیان مولوی خورشید احمد شاد صاحب سے ایضاً