تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 16
1 میں واپس رتن باغ کو لوٹنے لگاتا اپنی بیوی کو ساتھ لے کر گھر سمن آباد چلا جاؤں۔تو مولوی عبدالوہاب صاحب نے مجھے آوانہ دی۔کہ حاجی صاحب ! ابھر جائیں۔میں بھی چلتا ہوں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ حاجی صاحب آپ نے دیکھا کہ قوم کا کتنا روپیہ خرچ ہو رہا ہے۔میں نے عرض کیا۔مولوی صاحب! حضرت صاحب تو فرما چکے ہیں کہ میں اپنا خرچ خود برداشت کر وں گا۔پھر اعتراض کیسا ؟ فرمانے لگے آگے تو سنو نہ میں نے کہا فرمائیے کہنے لگے کہ دیکھو اب خلیفہ تو ر نعوذ باللہ من ذالک) اپنا دماغ کھو چکا ہے۔وہ اس قابل نہیں کہ خلیفہ رکھی جا سکے۔میں بجبر خاموش رہا تا سارا ماجرا سن سکوں۔اور جو گفتگو یہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ رہ نہ جائے۔میں نے کہا مولوی صاحب پھیلا یہ تو بتائیے کہ اب اور کون خلیفہ ہو سکتا ہے ؟ کہنے لگے کہ میاں بشیر احمد صاحب اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کیا کم ہیں۔اب میں نہیں رہ سکا۔تو میں نے کہا مولوی صاحب آپ تو ایک بزرگ ہستی کے فرزند ہیں۔آپ کو اتنا بھی علم نہیں۔کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرا خلیفہ بنانا تو کجا خیال کرنا بھی گناہ ہے۔چہ جائیکہ آپ ایسی باتیں کر رہے ہیں۔اور میرے لیے لیٹر نهایت تکلیف دہ ہو گیا ہے۔پھر فرمانے لگے سنو سنو ! میں نے عرض کیا کہ چونکہ میں نے سمن آباد جا تا ہے اور نیلا گنبد سے بیس لینی ہے۔اس لیے کچھ اور کہنا ہے تو چلتے چلتے بات کیجئے۔کہنے لگے دیکھو یہ جو مضا مین آجکل چھپ رہے ہیں۔انہیں میاں بشیر احمد صاحب درست کر کے پریس کو بھیجتے ہیں۔وہ خود تو لکھ نہیں سکتے۔پھر یہ عجیب بات ہے کہ انہی میاں صاحب کو حضرت صاحب اپنے کمرہ میں سلاتے ہیں۔میں اس معمہ کو نہیں سمجھ سکا۔اس کے علاوہ بھی اور کئی باتیں کیں جو میں بھول گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے اگلے دن سارا واقعہ چوہدری اسد اللہ خان صاحب کو ہائیکورٹ میں جاکرہ سنا یا انہوں نے فرمایا لکھ دو۔میں نے وہیں بیٹھ کر لکھ دیا۔جو مجھے اس وقت یاد تھا۔چو ہدری صاحب نے فرمایا کہ آپ مولوی صاحب کے سامنے بھی یہی بیان دیں گے۔لیک نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو لکھ دیا ہے آپ میرے ساتھ جو دھامل بلڈنگ چلیں اور انہیں میری موجودگی میں پڑھا دیں۔چنانچہ ہم دونوں گئے مولوی صاحب اپنی دوکان میں موجود نہ تھے۔ہم انتظار کرتے رہے۔کچھ دیر کے بعد مولوی صاحب تشریعیت لے آئے۔میرا خط