تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 302
٣٠٢ بجے کے قریب جب چاند پر رہا تو میں نے اس شخص کو کہا کہ مجھے رستہ دکھا دو۔وہ مجھے و ڈالر تک چھوڑ گیا۔اور مجھے مڑک دکھا گیا۔چنانچہ میں نے صبح کی نماز نہر پر پڑھی۔اور سورج نکلنے پر قریبا ایک گھنٹ بعد قادیان پہنچ گیا۔قادیان کے چوک میں جا کہ میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ بڑے مرزا صاحب کہاں ہیں۔اُس نے مجھے کہا کہ وہاں نہا کر سامنے مکان کی حویلی میں تخت پوش پر بیٹھے حقہ پی رہے ہیں۔میں سنتے ہی آگے بڑھا۔توئیں نے دیکھا کہ ایک معمر شخص نہا کر تخت پوشش پر بیٹھا ہے۔اور بدن بھی ابھی اس کا گیلا ہی ہے۔اور حقہ پی رہا ہے۔مجھے بہت نفرت ہوئی۔اور قادیان آنے کا افسوس ہوا۔میں مایوس ہو کر واپس ہوا۔موڑ پر مجھے ایک شخص شیخ حامد مسل صاحب ملے انہوں نے مجھے پوچھا۔کہ آپ کس جگہ سے تشریف لائے ہیں۔اور کس کو ملنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا میں نے جس کو ملنا تھا۔اس کو میں نے دیکھ لیا ہے۔اور اب میں واپس لاہور جارہا ہوں۔میرے اس کہنے پر انہوں نے مجھے فرمایا کہ کیا آپ مرزا صاحب کو ملنے کے لیے آئے ہیں۔تو وہ یہ مرزا نہیں ہیں وہ اور ہیں۔اور میں آپ کو ان سے ملا دیتا ہوں۔تب میری جان میں جان آئی۔اور میں کسی قدر تسکین پذیرہ ہوا۔حامد علی صاحب نے مجھے فرمایا کہ آپ ایک رقعہ لکھدیں۔میں اندر پہنچا تا ہوں۔چنانچہ میں نے ایک رقعہ پر پنسل کے ساتھ ایک خط لکھا جس میں میں نے مختصراً یہ لکھا۔کہ میں طالب علم ہوں۔لاہور سے آیا ہوں۔زیارت چاہتا ہوں۔اور آج ہی واپس جانے کا ارادہ ہے۔حضور نے اس کے جواب میں کہلا بھیجا کہ مہمان خانہ میں تھر میں اور کھانا کھائیں۔اور ظہر کی نماز کے وقت علاقات ہو گی۔اس وقت میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں اور اس کا مضمون میرے ذہن میں ہے۔اگر میں اس وقت ملاقات کے لیے آیا۔تو ممکن ہے کہ وہ مضمون میرے ذہن سے اتر جائے اس واسطے آپ ظہر کی نمانہ تک انتظار کریں۔مگر مجھے اس جواب سے کچھ نسلی نہ ہوئی۔میں نے دوبارہ حضرت کو لکھا۔کہ میں تمام رات مصیبت سے یہاں پہنچا ہوں۔اور زیارت کا خواہشمند ہوں۔اللہ مجھے کوئی وقت شرت زیارت سے سرفرزانہ فرمائیں۔تب حضور نے مائی دادی کو کہا کہ ان کو مبارک مسجد میں بٹھاؤ اور میں ان کی ملاقات کے لیے آتا ہوں۔مجھے وہاں کوئی پندرہ منٹ بیٹھنا پڑا۔اس کے بعد حضور نے مائی دادی کو بھیجا کہ ان کو اس طرف بلاؤ۔حضرت صاحب اپنے مکان سے گلی میں آگئے۔اور میں بھی اس گلی میں آگیا۔دور سے میری نظر جو حضرت صاحب پر پڑی۔تو وہی رڈیا میں سنو شخص مجھے دکھا یا گیا تھا۔بعینہ وہی طلبہ تھا۔حضرت صاحب کے ہاتھ میں عصا بھی تھا پگڑی