تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 301
E ہیں۔اور مجھے مجھی زینے سے کسی آدمی کے چڑھنے کی آوازہ آئی۔چنانچہ میں سڑیا ہی میں روزانو بیٹھ گیا۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ ایک نہایت متبرک سفید لباس میں انسان آیا ہے۔اور انہوں نے ایک بازو سے حضرت مرزا صاحب کو پکڑ کر میرے سامنے کھڑا کر دیا ہے اور فرمایا "هذا الرجل خليفة الله واسمعوا و اطیعوا " پھر وہ واپس تشریف لے گئے۔اور حضرت صاحب میرے پاس کھڑے ہو گئے اور اپنی ایک انگلی اپنی چھاتی پر مارکہ کہا۔ایہو رب خلیفہ کیتا ایہو مہدی خانو؟ پھر ایک اور نظم کی رباعی بھی پڑھی۔لیکن میں بھول گیا ہوں۔اس کا مطلب بھو یہی تھا۔کہ میں مسیح موعود ہوں۔میں پھر بیدار ہو گیا۔صبح میں بجائے سکول جانے کے قادیان روانہ ہو گیا گاڑی بٹالہ تک تھی۔اور قریباً شام کے وقت وہاں پہنچی تھی۔میں بٹالہ کی مسجد میں ہوا ڈے کے سامنے چھوٹی سی ہے۔نماز پڑھنے کے لیے گیا۔مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا۔کہ لوگوں نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں کا ارادہ ہے۔میں نے کہا لاہور سے آیا ہوں اور قادیان جانے کا ارادہ ہے۔انہوں نے حضرت صاحب کو بہت گالیاں دیں اور مجھے وہاں جانے سے روکا۔جب میں نے اپنا عصم ارادہ ہی ظاہر کیا تو انہوں نے مجھے مسجد سے نکال دیا۔میں اڈے میں آگیا مگر کچھ لوگ، اڈے پر بھی میرے پیچھے آئے۔اور مجھے هر چند قادیان جانے سے روکا۔اور کہا کہ اگر تم طالب علم ہو تو ہم تمہیں یہاں بڑے میاں کے پاس بٹھا دیں گے۔اور تمہاری رہائش اور لباس کا بھی انتظام کر دیں گے مگر میں نے عرض کیا میں پہلے ہی لاہور میں پڑھتا ہوں۔اس لیے مجھے یہاں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔میں قادیان میں حضرت صاحب کی زیارت کے لیے جارہا ہوں۔اس پر انہوں نے زیادہ مخالفت مشروع کی۔مگر میں نے پرواہ نہ کی۔اور قادیان کی طرف شام کے بعد ہی چل پڑا۔اندھیرا بہت تھا۔رات کا کافی حصہ گزر چکا تھا۔اور راستہ پہلے دیکھا ہوا نہیں تھا۔میں غلطی سے چراغ کی طرف دیکھ کر جو دور جل رہا تھا۔میسانیاں چلا گیا۔وہاں نماز عشاء ہو چکی ہوئی تھی۔ایک آدمی مسجد میں میٹھا ذکر الہی کر رہا تھا۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے۔اور کہاں سے آئے ہیں۔میں نے کہا لاہور سے آیا ہوں۔اور حضرت مرزا صاحب کو ملنا چاہتا ہوں۔اس نے جواباً کہا کہ یہ مسانیاں ہے قادیان نہیں ہے۔قادیان یہاں سے دور ہے اور تم یہاں سو جاؤ صبح کے وقت جانا۔رستہ مخدوش ہے۔چنانچہ میں وہاں مسجد میں لیٹ گیا۔اور چار