تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 298 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 298

۲۹۸ د حضرت منشی میر محمد اکرم صاحب دا توی له ولادت امشه ، بیعت قبل از شر ، وفات پراسی ۱۹۵۲) ، در آپ کا اصل وطن دانہ ضلع ہزارہ تھا۔اس گاؤں کے بارہ بزرگوں نے حضرت مسیح موعود و مہدی موعود کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا تھا۔جن میں آپ کو ایک ممتاز حیثیت حاصل تھی حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اس بستی کے ان بزرگوں کا ذکر اپنے سفر نامہ میں بھی فرمایا ہے۔حضرت مولوی محمد جی صاحب ہزار دہلی نے آپ کی وفات پر ایک مختصر نوٹ میں لکھا :۔رو منظور عین عنفوان شباب میں شاہ سے کچھ قبل حلقہ بگوش احمدیت ہوئے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس حاضر ہونے کا شرف اکثر حاصل کرتے رہے۔۱۹۰۲ء کے ماہ جولائی میں کئی روز حضرت اقدس کی مجلس میں گزارے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہدایت کی روشنی میں اسلام کے احکام کی ثابت قدمی سے پیر دی کرتے رہے۔پانچوں اوقات نماز باجماعت پڑھتے تھے اور نصف شب کے بعد نہایت خوش الحانی سے شوق انگیز لہجہ میں قرآت تہجد کی نمازہ میں پڑھا کرتے تھے۔سنجیدہ خصلت کے تھے کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے تھے۔جو بات سمجھانی چاہتے تھے نرمی اور محبت سے کھاتے تھے۔دیانت وامانت میں آپ مشہور تھے۔ہزاروں کی نقدی لوگ آپ کی تحویل میں رکھتے تھے۔آپ کی عمدہ مثال اور اچھے تعامل کے باعث لوگ آپ پر بھروسہ رکھتے تھے۔احمدیت کی تعلیم کا نمونہ تھے۔موضع دانہ میں بارہ زمیندار ایسے تھے۔جو ہفتوں ، مہینوں قادیان میں رہ کر فیومن حاصل کرتے اور پھر وطن واپس ہو کر تبلیغ میں لگ جاتے تھے۔انہی کے اثر سے شمال مغربی کشمیر کا خان۔بنگل تناول یا عتمان ہزارہ میں احمدیت کا آفتاب چپ کا مفتی سلسلہ احمدیہ حضرت مولوی سید سر در شاه صاحب جامع مسجد ایبٹ آباد کی امامت چھوڑ کہ احمدی ہوئے۔اور شام زادہ سنجارہ عبد المالک صاحب نے اپنا فرزند قاربان بھیجا۔جو اب باپ کے پہلو میں سویا ہو اہے۔شر میں باغ میں سجادہ نشین عبدالرحمن صاحب ساکن چھو ہر نے حاضر ہو کر بیعت کی۔حضرت مسیح موعود کے ان بارہ رفقاء میں سے ایک جرگہ کے نمبر بھی تھے له روزنامه الفضل ۲۰ مئی ۱۹۵۶ ء صفحه من آبائی وطن کو کھنگ منلع ایبٹ آباد