تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 294
۲۹۴ ان کے اہلی تو کل کی میں ایک مثال پیش کرتا ہوں ایک دفعہ وہ بیمار تھے۔اور ان کے لیے طبیب کی رائے تھی۔کہ وہ کسی پہاڑ پر چلے جاویں۔روپیہ ان کے پاس نہ تھا ادھر وہ عزم کر چکے تھے کہ کل میں چلا جاؤں گا۔میں چونکہ ان کا شاگرد تھا اور پھر وہ مجھ سے ہمیشہ سے اس طرح محبت کرتے چلے آئے جیسے شفیق باپ یا مہر بان استناد انہوں نے مجھ سے ان لفظوں میں ذکر کیا۔شیخ صاحب کوئی روپیہ تو نہیں ہوگا ؟ میں کل علاج کے لیے پہاڑ پر جانا چاہتا ہوں اور اس وقت روپیہ میرے پاس نہیں۔تنخواہ صرف ایک ماہ کی لی تھی وہ دکانداروں کو دیدی ہے۔میں اس وقت الحکم کو چلاتا تھا۔مگر افسوس اس رفت روپیہ میرے پاس نہ تھا۔دوسرے دن معلوم ہواکہ مولوی صاحب نے قرآن کریم لے کر اور غائباً مجربات نورالدین اور انجیل اور ایک کیل لے کر ٹھیک اس دقت صفر اختیار کیا جس کا عزام تھا۔اس سے جہاں مولانا کے تو کل کا پتہ گنا ہے وہں عزیم کا بھی پتہ چلتاہے۔روپیہ یا پیسہ مولانا کے عزم کے راستے میں کبھی روک نہ ہوا۔اس سے ممکن ہے کسی کی طبیعت اس طرف چلی جائے۔کہ مولانا نے پھر سفر میں کس طرح گزارہ کیا۔جبکہ پیسہ نہیں تھا۔کیا انہوں نے مانگ کر گزارہ کیا یہ فکر بالکل باطل ہے۔میں نے خوب بار یک نگاہ سے دیکھا ہے کہ مولانا سوال سے اسقدر گھبراتے ہیں جس کی حد نہیں۔قادیان میں رہتے ہوئے جہاں ہر طرف ان کے دوستوں کی ایک جماعت ہے وہ سوال نہیں کرتے۔دکانداروں سے ان کے کھلے حساب نہیں ہیں۔جہاں تک میر اعلم ہے مولوی محمد عارف صاحب رجو کہ مولوی صاحب کی طرح در دیشانہ زندگی گزارنے کے لیے خلیفہ اول کے شاگردوں کی صف میں شمار ہیں) سے کبھی کوئی چیز لے لیتے۔یا مولوی غلام رسول صاحب افغان سے کیونکہ وہ بھی حضرت خلیفہ اول کے شاگرد ہیں۔اسی طرح ہوں انا کے کلاس فیلو یا دوست ہیں وہ بھی ، مولانا کا ادھار اس احتیاط سے ہوتا کہ جس کو تنخواہ پر فوراً اد اکر دیں وہ تقاضا کرنے دانے شخص سے نہ حساب رکھتے اور نہ اتنا حساب بھی لمبا رکھتے کہ تقاضا ہو۔ہمیشہ وہ اپنی آمد کے حساب سے چلنے اور اسی کے موافق خرچ کرتے۔میں نے دیکھا کہ مولانا نے بارہا میرے سامنے ایک روپیہ کا بکری کا دودھ خریدا۔اس لیے کہ وہ بیمار تھے اور دہ درد ان کے لیے لازمی تھا۔اور انہوں نے دیکھا کہ میں قلیل تنخواہ پاتا ہوں۔اگر ہیں دودھ پیوں تو پھر کھانے وغیرہ کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔تو مولانا نے ایسا کرنا کہ دودھ میں ایک پیسے کے میٹھے چنے جن پر کھانڈ لگی ہوئی ہوتی ہے لیکہ ڈال لیتے اس طرح سے دو دھر بھی میٹھا ہو جاتا اور دودھ کے