تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 289
۲۸۹ توکل عطا کیا ہوا تھا کہ اللہ تعالی کے سہارے پر اپنا مکان خالی نہ کیا۔اور والدہ کے ساتھ وہیں دوماہ مقیم رہے۔سکھوں کے جتنے آتے تھے مگر گاؤں والوں کو آپ کی ہر دلعزیزی اور نیکی کی وجہ سے اتنی محبت تھی کہ کسی نے ہمارے گھر کا رخ نہ کیا۔بالآخر ایک دن کشف میں آپ نے دیکھا کہ ان کا لڑکا با ہر دانہ دے کر کہتا ہے تیار ہو جاؤ چنانچہ دوسرے دن ہی ہمارے چھوٹے بھائی فضل کریم صاحب اور ایک بھتیجے مڑی کے قافلہ میں اُن کو بخیریت لاہور لے آئے۔ء میں والد صاحب کی درخواست پر حضرت۔۔۔۔۔۔۔۔خلیفة المسیح الثانی ایده الله تعالی والد صاحب کے ہاں تشریف لے گئے۔اس واقعہ کا آپ اکثر ذکر فرما کر حضور کی ذرہ نوازی کا شکر یہ ادا کیا کرتے تھے۔والد صاحب جلسہ سالانہ پر جانے کے لیے کئی ماہ قبل تیاری شروع کر دیتے تھے آخری ایام میں نمازوں کا یہ عالم تھا کہ رات دو بجے ہی نماز تہجد شروع کر دیتے تھے۔بالاخر ۱۶٫۱۵ مارچ ء کی درمیانی رات اپنے بڑے لڑکے ماسٹر غلام محمد صا حب کے ہاں ننکانہ صاحب میں اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔اور قریباً سو سال کی عمر پائی ہے حضرت ڈاکٹر پیر بخش صاحب متوطن ڈیرہ دین پناہ ضلع مظفر گڑھ ر ولادت حشاد - بیعت نشده - وفات ۳۱ مارچ ۱۹۵۲ که پچپن میں ہیں آپ کے والدین انتقال کر گئے تھے آپ نے ذاتی کوشش اور جدوجہد سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گئے اور کلاس " میں ا قول پوزیشن حاصل کرتے یہ ہے انہی دنوں آپ نے احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان ایک مباحثہ سُنا جس سے متاثر ہو کر آپ لاہور سے قادیان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔آپ نے ریاست بہا ولپور میں ۴۶ سال تک مختلف مقامات میں سرکاری نوکر ہی کی اور ریاست له روزنامه الفضل ربوه ۳ را پریل ۷ ۹۵ عومه :: سے الفضل یکم جون ۱۹۵۶ء مث