تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 288 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 288

PAA چوہدری اللہ بخش صاحب (والد مولانا کرم الہی ظفر مبلغ سپین) د (51906 (ولادت ۶۱۸۵۷ قریباً - بیعت ۶۱۹۰۶ - وفات ۶٫۱۵ ۱ مارچ ۱۹۵۷ء) آپ کے بیٹے کرم ایم اے ناصر نے آپ کی وفات پر لکھا۔میرے والد محترم چو ہدری اللہ بخش صاحب مرحوم شہداء میں ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے آپ کے آباؤ اجداد اہل سنت و الجماعت سے تعلق رکھتے تھے۔سہ میں آپ کی ملاقات مولوی کریم بخش صاحب مرحوم بنگوی سے ہوئی جو کہ وہاں امام تھے انہوں نے والد صاحب کو بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان میں مہدی موعود ہونے کا دعوی کیا ہے۔آپ نے تحقیق مشروع کر دی با تا خر سال تک حضور کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اطمینان ہونے پر آپ نے 197ء میں بیعت کی۔بیعت کے بعد آپ نے رڈیا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے ہاں تشریف لائے ہیں بہت سے لوگ بے معنی سے گھر کے سامنے کھڑے ہیں کہ حضور کی تقریر سنیں۔والد صاحب نے انہیں کہا کہ آرام سے بیٹھ جاؤ۔تقر یہ سب کو سنائی دے گا۔چنانچہ سب لوگ آرام سے بیٹھ گئے۔حضور نے ایک چھوٹے لڑکے کو اشارہ کیا تقریر کر داور وہ چھوٹا لڑکا ایک اونچی جگہ کھڑا ہو کر نظر یہ کرنے لگا جو تمام لوگوں نے دلچسپی سے سنی۔اسی رڈیا کی بناء پر آپ نے اپنے بیٹے عزیزہ کرم اپنی ظفر کو خدمت دین کے لیے وقف کر دیا۔حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے از راہ کرم انہیں سپین کے لیے منتخب فرمایا۔چنانچه وه ۱۸ر دسمبر ۱۹۳۵ء کو والد صاحب کے سامنے رخصت ہوئے اور ما شاء اللہ ۱۲ سالی سے حضور انور کی زریں ہدایت کے مطابق سپین جیسے اہم ملک میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔خود سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مختلف اداروں۔مثلاً سمال ٹاؤن کمیٹی قادیان میں کلرک اور احمدیہ گرلز سکول دھر سکوٹ بنگا میں ہیڈ ماسٹر کے فرائض ادا کرتے رہے۔نیز احمد یہ سکول بنگہ میںبھی کام کرنے کا موقع ملا۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔اپنے مخاطب کو نرم اور محبت بھرے لہجہ میں احمدیت کا پیغام پہنچاتے تھے۔اپنے بچوں سے بہت محبت تھی۔سب کی تربیت احمدیت کے زریں اصولوں کے مطابق کی۔اور سارے خاندان کو ہر وقت نماز میں مداومت۔قرآن مجید سے پیار اور صحیح اسلام پر چلنے کی تلقین فرماتے تھے۔تقسیم ملک کے موقع پر تمام مسلمانوں نے گاؤں خالی کر دیا۔مگر والد صاحب کو احمدیت نے ایسا