تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 284 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 284

۲۸۴ کامیاب مباحثہ ہوا۔جس کے نتیجہ میں سید امیر الدین صاحب ریٹائرڈ ڈی۔ڈی سی دھار واٹ علاقہ کمیٹی ) بیعت کر کے آغوش احمدیت میں آگئے موصوف ایک عرصہ سے زیر تبلیغ تھے۔قادیان کی زیارت بھی کر چکے تھے۔اور یہ مباحثہ انہی کی تحریک پر عمل میں آیا تھا یہ بھارت کی احمدی جماعتوں میں اس سال میشواریان مذاب جن کالی کٹ اور قادیان کا جس میشوایان مذاہب کے خاص اہتمام سے جلسے منعقد ہوئے ہیں میں کال کٹ اور قادیان - خاص طور پر قابل ذکر ہیں کالی کٹ کا جلسہ مولانامحمد عبد اللہ صاحب مالا باری کی صدارت میں ہوا۔مقررین میں مسٹرہ یورنڈ کے ایم ما تفتن صاحب بی اے ، مسٹر کے دی کریشن، صاحب بی اسے ایل ایل بی مولوی بشیر احمد صاحب مبلغ سلسلہ، اور مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل وکیل یاد گیر تھے لیے جلسہ قادیان میں مندرجہ ذیل اصحاب نے تقاریہ فرمائیں۔لالہ پشاور کی بل صاحب ایڈووکیٹ گورداسپور (سوانح رامچندر جی کرم گیانی عباد اللہ صاحب یسرچ سکالر سکھ مذہب (گورونانک صاحب کے بیون) مولوی محمد حفیظ صاحب فاضل بقا پوری اسسٹنٹ ایڈیٹر پدر (سوانح حضرت موسی و عیسی علیها السلام) خالد احمد بیت مولانا ابوالعطاء صاحب دسیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) صاحبزادہ مرزا د سیم احمد صاحب (سیرت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ) سردار زائن سنگھ صاحب رسیرت النبی) مولوی بشیر احمد صاحب (خادم) سری کرشن جی مہاراج) حضرت مولوی خلیل احمد صاحب مونگیری رمہاتما بدھ کی زندگی)۔سردارگور دیال سنگھ نے اپنی صدارتی تقریر میں اعتراف کیا کہ منڈا مہب عالم کے پیشواؤں کی عزت واحترام کے بغیر دنیا کی ترقی اور نجات ممکن نہیں۔جلسہ کے لیے گورنر صاحب پنجاب سری سی پی این سنگھ ، شہری بھیم سین سیر صاحب سابق چیف منسٹر پنجاب ، سردار زنجن سنگھ صاحب پرنسپل گورو نیغ بہادر خالصہ کالج دلی اور مسٹر ڈی سی دور یا ڈائر کیر تعلقات عامہ پنجاب کی طرف سے پیغامات بھی موصول ہوئے۔سامعین کی تعداد ۲ ہزار کے قریب تھی سے له الفضل ۱۸ مئی ۱۹۵۶ ء م : له الفضل ۱۸ مئی ۱۹۵۶ء صفحہ ۵ داس جلسہ میں اردو تقاریہ کا ملیالم میں ترجمہ کے فرائض مولوی محمد ابوالوفا ر صاحب نے انجام دیئے) له الفضل ۲ مئی ۹۵۶اء صفحہ ٥