تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 276
۲۷۶ نماز پڑھنے کا موقع جوخدا نے مجھے میسر کیا ہے یہ ضائع نہیں ہونے دینا چاہتے۔چنانچہ نماز پڑھ لی اب یا تو وہ دہاں کہتے تھے کہ میرا اسلام ظاہر نہ ہو یا یہاں آ کے بیٹھے ہوئے ہیں۔(اس موقعہ پر دوستوں نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ پر دفیسر مٹاک صاحب انہیں دیکھا دیئے جائیں چنانچہ پر دغیر صاحب سٹیج پر تشریف لے آئے۔اور حضور نے فرمایا یہ پر دفیسر ملک صاحب ہیں تو جرمنی سے آپ لوگوں کو دیکھنے آئے ہیں اور آپ ان کو دیکھنے آئے ہیں۔اس پر دوستوں نے خوشی سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کیے۔دوسری خوشخبری یہ ہے کہ پر وفیسر ٹلناک صاحب یہ خبر لائے ہیں کہ جرمنی میں چار شہروں میں جماعتیں قائم ہوگئی ہیں۔ایک بیعت پیچھے الفضل میں شائع ہوئی ہے۔تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ اس نو مسلم کی بیوی نے بھی بیعت کر لی ہے سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ پیغامیوں نے منافقین کو کہا تھا کہ ہمارا سٹیج تمہارے لیے ہے ہماری تنظیم تمہارے لیے ہے۔آج ہی جس وقت میں چلنے لگا ہوں تو مولوی عبد اللطیف صاحب کی چھٹی پہنچی کہ ایک جرمن جو پیغامیوں کے ذریعہ سے مسلمان ہوا تھا وہ میرے پاس آیا اور میں نے اس کو تبلیغ کی اور وہ بیعت کا خط آپ کو بھجوا رہا ہے۔توان کی وہ تنظیم خدا نے ہمیں دے دی۔جس طرح ابوجہل کا بیٹا عکرمہ محمدرسول اللہ صل للہ وسلم کو مل گیا تھا۔اسی طرح پیغامیوں کا کیا ہوا نومسلم ہمیں مل چکا ہے۔آج ہی اس کی بیعت کا خطہ آگیا ہے یہ حضور نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ : ایک بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاکستان میں لوگوں کو ایک بڑی مصیبت پڑی ہوئی ہے اور وہ کشمیر کا مسلہ ہے۔کشمیر کے مسئلہ میں آج تک پاکستان حیران بیٹا ہے اور پاکستانی گورنمنٹ سے بھی زیادہ حیران بیٹھے ہیں۔یہ سب کو نظر آرہا ہے کہ جب تک کشمیر نہ ملا پاکستان محفوظ نہیں رہ سکتا اور یہ بھی سب کو نظر آرہا ہے کہ کہنا کرانا کسی نے کچھ نہیں۔سب حیران ہیں پاکستان کی نظر مر یکہ پر ہے اور امریکہ کی نظریہ میں پر ہے۔اور اگر کسی وقت پاکستان نے ادھر پھیل کی تو روس اپنی نو میں افغانستان ه روزنامه الفضل ریوه ۱۹ مارچ ۱۹۵۷ء ص ۳ - ۴ - ۵ i