تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 269
جواب یہ ہے کہ ان فقروں سے پہلے دعا کے بعد کیونکہ کا لفظ محذوف سمجھا جائے گا اور مطلب یہ ہو گا کہ اے خدا فلاں کام کر دے۔کیونکہ میں تو ہر کام تیری مدد مانگ کر کیا کرتا ہوں اور ہر کام میں تیری جنا کو مدنظر رکھتا ہوں اور پھر جو شخص دعا کے وقت کہے گا کہ ہم قدم قدم پر خدانخانی کی طرف توجہ کرتے ہیں، وہ عمل بھی یہی کوشش کرے گا کہ اپنے ہر کام میں خدا تعالیٰ سے دعا کرے۔جو شخص دعا کے وقت یہ کہے گا اور ہم اس کی رضا کی جستجو کرتے ہیں اور عملہ بھی جب کوئی کام کرے گا تو دیکھے گا کہ اس میں خدا تعالی کی رضا سے یا نہیں، اور جب یہ دور بانہیں کوئی انسان کرے گا تو یقینی بات ہے کہ اس کی دعائیں زیادہ قبول ہوں گی۔لیس یہ صرف دعا نہیں ہے بلکہ اس میں انسان کو ایک راستہ بھی بتایا گیا ہے کہ تم اپنے چال چلن کو اس رنگ میں ڈھالو کہ ایک تو اپنے ہر کام میں خدا تعالیٰ سے دعا کیا کہ :۔دوسرے ہر کام کے کرنے سے پہلے سوچا کرو کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہوگا یا نہیں۔اگر تم ہر کام میں خداتعالی سے دعا کرو گے اور اگر تم ہر کام کے وقت یہ سوچو گے کہ اس میں خدا تعالیٰ کی رمنا ہے یا نہیں تو ان ما تو کچھ خدا تعالٰی سے مانگو گے وہ تم کو مل جائے گا پس یہ صرف دعاہی نہیں بلکہ اس میں دعا کی قبولیت کا گڑ بھی بنایا گیا ہے اور مجھے خدا تعالیٰ نے یہ فقرے اس لیے بنائے ہیں کہ ہماری جماعت کے لوگ اگر اپنی دعاؤں میں یہ فقرے کہیں گے تو ان کی دعائیں زیادہ قبول ہوا کریں گی۔گویا یہ دعا کی قبولیت کا ایک القالمی نسخہ ہے۔یعنی ایسا نسخہ جو بندہ نے ایجاد نہیں کیا بلکہ خدا تعالیٰ نے اسے ظاہر کیا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ جو نسخہ خدا تعالیٰ خود بتائے وہ بندہ کے ایجاد کردہ نسخہ سے بہت زیادہ قیمتی ہوتا ہے لیے ۱۹۵۶ میں مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر لامیرد د کارتسم حضرت مصلح موعود کا رستم فرموده پیش لفظ جسم مصلی جماعت نے امتی جزیره خاری خال) احمدیہ ڈیرہ نے اپنی کتاب "بشارت رحمانیہ کی دوسری جلد شائع کی جس پر سیدنا حضرت مصلح موعود نے اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل پیش لفظ تحریر فرمایا :- اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جو لوگ اس کی خاص خدمت کے لیے مامور ہوتے ہیں به روزنامه الفضل ربوه ۲۳ نومبر ۱۹۵۶ء صفحه ۳-۴