تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 245 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 245

۲۴۵ متعلق معلوم ہوا کہ اس کے منہ سے بعض ایسے فقرے نکلے ہیں جو ایک احمدی کے منہ سے نہیں نکلنے چاہئیں ایک سیکنڈ کے لیے میری طبیعت میں سخنت عفتہ پیدا ہوا کہ اس نے یہ بیہودگی گیوں کی ہے۔لیکن فوراً ہی میرا خیال اس طرف گیا کہ شاید اس میں اس کا کوئی قصور نہ ہو بلکہ کسی اور جگہ کمزوری ہو۔جو ان حضرات کا موجب ہوئی ہو۔اس خیال کے آنے پر میں نے اسے اپنے پاس بلایا اور بڑے پیار سے دریافت کیا کہ تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتب میں سے کون کونسی کتب پڑھی ہیں وہ بڑے آرام سے کہنے لگا۔کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کی کوئی کتاب نہیں پڑھی۔حالانکہ دو سیکنڈ یا تھرڈ ائیر کا سٹوڈنٹ تھا۔اس پر نہیں نے سمجھا کہ جو فقرے اس کے منہ سے نکلے ہیں وہ اس بات کا نتیجہ تھے کہ وہ اس تعلیم سے ناواقف ہے جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام لائے ہیں۔پس اگر ہم اپنی اولاد میں صحیح روحانیت پیدا کرنے کی طرف بے توجہ ہو جائیں تو ہم بڑے ظالم ہیں خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ ان حالات میں ہماری اولاد سے کیا سلوک کرے گا لیکن اگر وہ اس صحیح روحانیت سے گورے ہیں تو ہمارا ظلم ثابت ہے۔اور ہم خدا تعالیٰ کے مواخذہ سے پہنچ نہیں سکتے۔یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ ہمیں وہ خزانہ ملا ہے میں کو ہم اپنے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے اور دوسری طرف ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری اولا و کہ اس خزانہ کی ضرورت نہیں یا تو وہ خزانہ خزانہ نہیں یا ہمارا یہ خیال غلط ہے کہ ہمیں اس خزانہ کی ضرورت نہیں۔اگر ہماری اولاد کو اس خزانہ کی ضرورت ہیں تو ہمیں بھی اس کی ضرورت نہیں۔اور ہم اس دعوی میں منافق ہیں کہ ہمیں اس خزانہ کی ضرورت سے کیونکہ اگر اس خنداند کی ہمیں ضرورت ہے تو ہماری اولاد کو بھی اس کی ضرورت ہے۔اور اگر ہماری اولاد کو اس خزانہ کی ضرورت ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم دیکھیں کہ وہ اس خزانہ سے فائدہ اٹھاتی ہے یا نہیں۔یعنی وہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا مطالعہ کرتی ہے یا نہیں۔اگر جماعت کے دوست حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کی کتب کا مطالعہ کریں تو لازمی بات ہے کہ ان میں ہر ایک شخص اپنی عقل سمجھ اور علم کیمطابق ان کتب سے منزور کچھ نہ کچھ اخذ کرے گا۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کئی کتب بار بار پڑھی ہیں اور ہمارا تجربہ ہے جب بھی کوئی کتاب دربارہ پڑھی اس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی نیا مسئلہ ل ہو یا کوئی نہ کوئی نیا عقدہ کھلا یا کوئی نہ کوئی نئی دلیل سامنے آگئی۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ