تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 11
حضرت مصلح موعود کی ان مسلسل نوازشات اور عنایات کے باوجود ان لوگوں کے سینے بغض و عناد کی آگ سے بھرے رہتے تھے۔چنانچہ قبل از تقسیم قادیان کے دور ہی کا واقعہ ہے کہ محمد عیسی صحاب بھاگلپوری کی اہلیہ صاحبہ ایک شادی کے سلسلے میں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بغرض من تات جاسه نگی تو خیال آیا کہ میاں عبد الوہاب صاحب اور میاں عبد المنان صاحب سے بھی ملتی میچوں۔چنا نچہ وہ ملاقات سے پہلے انہیں سلام کرنے کے لیے اُن کے پاس گئیں۔اس پر میاں عبدالوہاب صاحب یا میاں عبد المنان صاحب نے فرمایا جب تم خلیفہ ہوں گے تو سلام کرنا یہ قیام پاکستان کے بعد مولوی عبد الوہاب صاحب صاحبزادہ مرزا د سیم احمد صاحب کے شہراہ خاندان سیح موعود کے نمائندے کے طور پر تاریان بھجوائے گئے لیکن تھوڑے ہی عرصے میں اُن سے ایسی حرکات سرزد ہونی شروع ہوئیں۔جو سلسلہ احمدیہ اور در ویٹوں کے مفاد کے منافی تھیں۔وہ غیر مسلموں سے ایسی نا گفتنی با تیں کہ جاتے کہ اگر ان کا ساتھ ساتھ فوری تدارک نہ کیا جاتا تو خدا معلوم غریب درویشوں پر مصائب کے کیا کیا پہاڑ ٹوٹ جاتے۔وہ عہد درویشی کا ابتدائی دور تھا۔اور بڑا نازک اور خطرناک دور تھا۔یہ ایسے متمتر داور سرکش تھے کہ با وجود بار بار منع کر نے کے شام کو ضرور غیر مسلموں کے محلے میں دور تک نکل جاتے اور کبھی کسی سے اور کبھی کسی اوٹ پٹانگ اور مفاد سلسلہ کے خلاف باتیں کرتے رہتے تھے۔ایک دن حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ امیر جماعت قادیان کو یہ شکایت پہنچی کہ ایک شخص نے درویشوں سے کہا ہے کہ تم یہاں مفت کی روٹیاں کھا رہے ہو جاؤ جا کہ کوئی کام کرو یہاں پہ کیا رکھا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے بیت المبارک میں نماز مغرب کے وقت ایک تقریر فرمائی جس میں اس قابل اعتراض اور اخلاق سوز حرکت کا ذکر کیا اور جواب طلبی کرتے ہوئے بقیہ حاشیہ سے مکتوب حضرت مصلح موعود بنام مرزا عبدالقدیر صاحبه مورخه ۱۹ار اگست ۱۹۵۶ ۶ ریکار ڈخلافت لائبریری ربوہ) سے اصل بیان جو ۲ نومبر ۱۹۵۶ء کا ہے شبہ تاریخ احمدیت کے ندیم ریکا رڈمیں موجود ہے اور اس پر مندرجہ ذیل گواہوں کے دستخطہ میں شکیل احمدیر صاحب - محمد اختر صاحب۔سر در سلطانہ صاحبہ ر گیم مولانا عبدالمالک خان صاحب مربی سلسلہ کراچی)