تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 239 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 239

کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :- " آپ لوگوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے یہ نام قرآنی تاریخ میں بھی دو دفعہ آیا ہے قرآنی تاریخ نہیں ایک دفعہ تو حضرت علی علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں چنانچہ جب آپ نے فرمايا مَنْ أَنْصَارِ إِلَى اللهِ تو آپ کے حواریوں نے کہا نَحْنُ انصار الله کہ ہم اللہ تعالے کے انصار ہیں۔دوسری جگہ اللہ تعالی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور ایک گروہ انصار کا تھا گویا یہ نام قرآنی تاریخ میں دو دفعہ آیا ہے ایک جگہ پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق آیا ہے اور ایک جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نہ کے ایک حصہ کو انصار کہا گیا ہے جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی انصار کا دو جگہ ذکر آیا ہے۔ایک دفعہ جب حضرت خلیفہ اول رحمہ اللہ تعالیٰ عنہ کی پیغامیوں نے مخالفت کی تو میں نے انصار اللہ کی ایک جماعت قائم کی اور دوسری دفعہ حیب جماعت کے بچوں نوجوانوں بوڑھوں اور عورتوں کی تنظیم کی گئی تو چالیس سال سے اوپر کے مردوں کی جماعت کا نام انصار رکھا گیا گویا جس طرح قرآن کریم میں دو گروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا اس طرح جماعت احمدیہ میں بھی دو جماعتوں کا نام الضار اللہ رکھا گیا۔پہلے جن لوگوں کا نام الضار اللہ رکھا گیا اُن میں سے اکثر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رفقاء تھے۔کیونکہ جماعت ۱۹۱۳-۱ء میں بنائی گئی تھی۔اور اس۔تت اکثر رفقاء زندہ تھے۔اور اس جماعت میں بھی اکثر وہی شامل تھے۔اسی طرح قرآن کریم میں بھی جن انصار کا ذکر آتا ہے اُن میں زیادہ ترمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے صحابہ شامل تھے۔دوسری دفعہ جماعت احمدیہ میں آپ لوگوں کا نام اسی طرح انصار رکھا گیا۔جس طرح قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک اونی نبی حضرت مسیح ناصری کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے آپ لوگوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کم ہیں اور زیادہ حصہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے میری بیعت کی ہے۔اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام والی بات بھی پوری ہوگئی یعنی جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا تھا اسی طرح مثیل مسیح موعود کے ساتھیوں کو بھی انصار اللہ کہا گیا ہے۔گویا قرآنی تاریخ میں بھی دو زمانوں میں دو گروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔اور جماعت احمدیہ کی تاریخ میں تھی