تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 238
۲۳۸ تشیة الاقتان تنکالا۔اور پھر تو میں پچیس سال کی عمر میں الفضل " جاری کیا۔حضور نے ان ہردو اخباروں کو نکالنے میں ابتدائی مشکلات اور محنت و مشقت پر روشنی ڈالنے کے بعد ان ہر دو کی افادیت بلند معیار اور غیروں تک میں بھی ان کی مقبولیت کے متعدد واقعات بیان فرمائے۔اور نوجوانوں کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے نوجوان بھی اس قسم کے شعف اور عزم و استقلال کی بدولت آج صحافت کے میدان میں ترقی کر کے دین کی خدمت کا فریضہ ادا نہ کرسکیں۔دو دوران تقریر میں حضور نے ٹھوس مضامین اور ہلکے پھلکے شذرات کی علیحدہ علیحد اہمیت بیان کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ دونوں قسم کے مضامین موقع اور عمل کے لحاظ سے اپنی اپنی جگہ خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔حضور نے نہایت لطیف مثالیں دے دے کر ان کے بعض فنی پہلوؤں کی بھی وضاحت فرمائی " واذ الف نبوت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے موجودہ زمانہ میں صحافت کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اس امر پر خاص زور دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والوں پر جنہیں اللہ تعالیٰ نے "سلطان القلم قرار دیا ہے اس ضمن میں کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان ذمہ داریوں کو کما حقہ کس طرح ادا کیا جا سکتا ہے۔آخر میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اجتماعی دعا کرائی اور یہ با برکت تقریب اختتام پذیر ہوئی اپنے انصار اللہ کوحضرت صلح موعود کی قیمتی نصائح اساس سال اور میں اعلی انصار الشر مجلس الله مرکز یہ کا دوسرا سالانہ اجتماع ۲۸/۲۰ اکتوبر کو منعقد ہوا۔جس میں حضور نے انصارہ کو پیش قیمت نصائح سے نوازا۔اور خاص طور پر نظام خلافت کی عظیم برکات پر روشنی ڈالی۔جیسا کہ پہلے باب میں ذکر آچکا ہے۔اس کے علاوہ حضور نے جن ضروری امور کی طرف احباب جماعت کو متوجہ فرمایا۔ان کا خلاصہ حضور ہی کے مبارک الفاظ میں سیر و قرطاس کیا جاتا ہے۔حضور نے لفظ انصار اللہ کی تاریخی عظمت و اہمیت واضح له روزنامه الفضل ریوه ۱۲۰ اکتوبر ۱۹۵۸ در صفحه او ۸