تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 232
غیرت کو ضائع کر سکتا ہے۔پس آپ لوگوں کو ایمانی غیرت دکھانی چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و السلام ہندوستان میں پیدا ہوئے اور سند دستان میں ہی فوت ہوئے اور وہیں آپ مدفون بھی ہیں۔اور حضرت خلیفہ اول۔۔۔بھی۔آجکل حضرت خلیفہ اول کی اولا د نے پاکستان میں ایک بڑا فتنہ اٹھایا ہوا ہے۔مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اس فتنہ کو خود دور کر دے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ میری اور سلسلہ کی مدد کر تا رہا ہے۔لیکن چونکہ فتنے انسان اٹھاتے ہیں۔انسانوں کا بھی فرض ہوتا ہے کہ درہ اپنی تدبیروں سے فتنوں کو دور کریں اور سب سے زیادہ یہ فرض قادیان کے لوگوں پر ہے۔میری خلافت کے لیے جب جماعت نے رائے دی تو اس وقت سب سے زیادہ افراد قادیان کے تھے اور اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے الہام کیا کہ اسے قادیان کی جماعت مبارک ہو سب سے پہلے برکات خلافت تم پر ہی اترتی ہیں ، اب گوئیں دور ہوں مگر مجھے یقین ہے کہ اب برکات خلافت سب سے پہلے قادیان ہی کی جماعت پر اترتی ہیں اور ان کے ذریعہ سے سارے ہندوستان کی جماعتوں پر۔آج سے پہلے بھی جماعت میں فتنے اٹھے اور بعض قادیان کے آدمی بھی ملوث ہوئے مگر ایک بہت بڑی اکثریت ہمیشہ فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑی ہو گئی۔قادیان کے محلوں کو آباد کرنے کا ثواب بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے ہی دیا اور ربوہ کے تو ایک ایک انچ کے آباد کرنے کا ثواب مجھے دیا۔گور بوہ کی اکثریت ایمان پر قائم ہے مگر با وجود اس کے کہ ربوہ والوں پر میرا زیادہ احسان تھا میں نے تین سال کے اندر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس شہر کو آباد کیا جب کہ گورنمنٹ آف انڈیا دس سال ہیں چند می گڑھ آبا د نہیں کر سکی۔اور اس وقت ربوہ میں تین کالج اور تین سکول ہیں مگر پھر بھی ربوہ کے مومن اس نسبت سے نہیں ہیں میں نسبت میں قادیان کے مومن ہوا کرتے تھے۔عبد الرحمن مصری کے فتنہ کے وقت تین سال میں ایک یا دو آدمی کے متعلق شکایت تھی کہ اس کو ملنے گئے ہیں۔مگر اس وقت تک تین یا چار کے متعلق شکایت آچکی ہے کہ عبد المنان سے ملے ہیں۔تین چار کی تعداد بہت ہی کم ہے۔مگر قادیان کے کمزوروں کی نسبت زیادہ ہے۔اب میں آپ لوگوں سے اور تمام ہندوستان کے احمدی له الفضل - ۲رجون ۱۹۱۴ ء مرا