تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 218
۲۱۸ بڑھے کو بلاؤ جب وہ بڑھا پاس آیا تو کہا میاں بڑھے تم یہ درخت لگارہے ہو بیتہ ہے یہ ساٹھ سال کے بعد پھل دیتا ہے۔تم تو اس وقت تک مرجاؤ گے تمہیں اس درخت کے لگانے کی کیا ضرورت ہے۔بڑھے نے کہا بادشاہ سلامت آپ بھی عجیب ہیں۔میرے باپ دادا بھی اگر یہی سوچتے تو میں کہاں سے پھیل کھاتا۔میرے باپ داداؤں نے درخت لگایا تو میں نے میل کھایا میں لگاؤں گا تو میرے پوتے پیڑ پوتے کھائیں گے بادشاہ کو بات پسند آگئی اس نے کہا نہ ہ۔بادشاہ نے وز یہ خزانہ کو حکم دیا ہوا تھا کہ جب میں کسی بات پر یہ کہوں تو فوراً تین ہزار اشرفی کی متیل اس کے آگے رکھ دیا کر د بادشاہ نے کہا یہ۔وزیر نے فوراً تین ہزار کی تھیلی اس کے آگے رکھ دی جب اس کے آگے تین ہزار اشرفی کی مخیلی رکھی گئی تو اس نے کہا بادشاہ سلامت اب بتائیے آپ تو کہتے تھے کہ تو ساٹھ سال کے بعد کہاں پھل کھائے گا۔چھوٹے چھوٹے درخت ہوں تو وہ بھی اگر جلدی پھل دینے والے ہوں تو کم سے کم چار پانچ سال بعد پھل دیتے ہیں مگر مجھے تو دیکھئے ایک منٹ کے اندر پھل مل گیا۔بادشاہ کو یہ بات اور بھی پسند آئی اور اس نے پھر کہا نہ۔اور وزیر خزانہ نے پھر تین ہزار کی تحصیلی اس کے سامنے رکھ دی جب وہ دوسری متیل رکھی گئی تو کہنے لگا بادشاہ سلامت دیکھئے آپ کی کتنی غلطی تھی آپ کہہ رہے تھے کہ ساٹھ سال کے بعد اس نے پھل دینا ہے اور اس وقت تک تو بچے گا کہاں۔مگر دیکھئے لوگوں کو تو سال میں ایک دفعہ پھل لتا ہے اور میرے درخت نے ایک منٹ میں دو دفعہ پھل دے دیئے۔بادشاہ نے کہا زہ۔وزیر نے پھر تیری تھیلی رکھ دی۔بادشاہ کہنے لگا کہ چلو ورنہ یہ بڑھا خزانہ لوٹ لے گا۔تو اللہ تعالے کا بھی ہمارے ساتھ ایسا معاملہ ہوتا ہے ہندوستانی گورنمنٹ نے وہ کتاب ضبط کی اور مہندوستان میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید محمد رسول اللہ کی ذات کمزور ہے۔ان پر ایک امریکن نے حملہ کیا اور مسلمان جواب نہیں دے سکے آخر شور مچایا اور گورنمنٹ کو کتاب ضبط کرنی پڑی اور پاکستان گورنمنٹ نے کتاب ضبط کی پاکستان کے عیسائی خوش ہوئے کہ دیکھو محمد رسول اللہ کی ذات کمزور ہے۔ان پر ایک امریکن نے حملہ کیا اور مسلمان جواب نہیں دے سکے آخر شور مچایا اور گورنمنٹ کو کتاب منبط کرنی پڑی اور پاکستان گورنمنٹ نے کتاب منبط کی پاکستان کے عیسائی بڑے خوش ہو ئے پاکستان کے سند در خوش ہوئے کہ دیکھو محمد رسول اللہ کی ذات کمزور