تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 207 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 207

۲۰۷ فصل اوّل 1922ء کے فتنہ منافقین ، اس کی عبرتناک ناکامی اور کارنامه استحکام خلافت کا تفصیلی تذکرہ کرنے کے بعد اب 19 کے بقیہ واقعات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔سید نا حضرت مصلح موعود وسط ۱۹۵۶ء میں مری میں سفر ابیٹ آباد و بالا کوٹ تشریف فرماتھے کہ اگر جو میری نام انت صاحب پی ڈاکٹر چو اللہ ایچ۔ڈی۔پریزیڈنٹ جماعت احمدیہ ایبٹ آباد کی طرف سے حضور کی خدمت اقدس میں یہ درخواست پہنچی کہ ہمیں عرصہ سے شوق ہے کہ حضور ایبٹ آباد تشریعیت لاویں تا کہ اس خطہ اور اس کے باشندوں کے لیے خیر و برکت کا موجب ہو۔یہ درخواست جو یملیاں کے دو و مخلص احمدایوں صوبیدار غلام رسول صاحب اور چوہدری غلام حسین صاحب نے پیش کی۔حضور نے از راہ کرم اسے شرف قبولیت بخشا اور ، اس نمبر کو مع بیگمات و خدام کے مری سے ایبٹ آباد تشریف لے گئے اور اس علاقہ کو اپنے انفاس قدسیہ، ایمان افروز خطابات اور پر سوز دعاؤں سے برکت عطا کرنے کے بعد ۲۲ ستمبر 2ء کی صبح کو ایبٹ آباد سے روانہ ہو کر جا بہ آگئے لے اس علاقہ میں حضور نے قریباً ایک ہفتہ قیام فرمایا اور اس کے دوران تیرھویں صدی کے مجدد حضرت سید احمد صاحب شہید بریلوی کے مزار مقدس واقع بالا کوٹ پیپر دعا کے لیے بھی تشریف لے گئے ابیٹ آباد میں مختصر سی جماعت تھی جس نے مہمان نوازی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا حضور کی رہائش چوہدری عبد الجلیل خاں صاحب ایگزیکٹو انجینیر کی وسیع ، با موقعہ اور خوشنما کو بھٹی میں بھی ماحول ہر طرح پر امن رہا اور کئی سعید اور نیک فطرت غیر ان جماعت معززین حضور کی ملاقات کے لیے حاضر ہوئے اور انہیں حضور کی زبان مبارک سے مبارک کلمات سنے اور زیادہ سے زیادہ له الفضل ۲۳ رستمبر ۱۹۵۶ء صلا و الفضل ۲۲ اگست ۱۹۶۵ مرد