تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 205 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 205

۲۰۵ تشار میں ایک غیر مبائی خواجہ محمدنصیر اللہ صاحب ممبر مجلس معتمدین سیکر ٹری جماعت را ولپنڈی نے ایک ٹریکٹ میں اپنے موجودہ امیر کی خفیہ پالیسی پر زبردست تنقید کرتے ہوئے لکھا : - در هم حیران درست شد به این که خداوندا یہ جماعت کب سے فرقہ باطنیہ بن گئی ہے جس کی عقیدہ در سے لے کر سیادت وسیاست تک ہر چیز پر اسرار ہوتی تھی۔نیز لکھا ور ہم علمی سطح پر دوسری جماعتوں سے مار کھا چکے ہیں۔ہمارے ہاں علماے دین کا فقدان ہے۔اہل قلم نا پید ہیں۔فصاحت و بلاغت اور حسین خطاب کی رمق تک باقی نہیں رہی زمانہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور نئے سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اُن پر کوئی بولنے والا اور لکھنے والا ہمارے ہاں کوئی دکھائی نہیں دیتا ر ہیں آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے کی باتیں بے ڈھنگے پن سے بار بار بیان کی جاتی ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے قلعے سر کر لیتے ہیں پھر انفرادی اور اجتماعی صورت میں جماعت کی عملی حالت ہمارے تنزل اور الحطاط کی دھائی دے رہی ہے لہ را مد مجلس معتمدین جناب ڈاکٹر سعید احمد صاحب کے خطاب پر ایک نظر ملا د ص ۱۳