تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 200 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 200

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب خلیفہ کے مبارک منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو غیر معمولی طور پر سچے کہ دکھلایا۔اور نہ صرف اس سال کا بجٹ پورا ہو گیا۔بلکہ مجوزہ بجٹ سے بھی بہتر ہزار پانچ سو بہنیں روپے زیادہ وصول ہوئے۔حالانکہ یہ مجوزہ بجٹ بھی پچھلے سال کی سجٹ آمد سے بقدر ایک لاکھ چودہ ہزار چھ سو میں رو پہلے زیا دہ تھائیے خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے اس چمکتے ہوئے نشان کی عظمت واہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں۔کہ حضرت مصلح موعود نے فتنہ منافقین کے خروج سے بھی پہلے ایک خطبہ جمعہ میں یہ پیشگوئی فرما دی تھی کہ : اب میں بیمار ہو گیا ہوں تو جو ہے اپنے بلوں سے باہر نکل آتے ہیں اور انہوں نے خیال کر لیا ہے کہ بیماری کی وجہ سے میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکوں گا اور وہ میری ٹانگیں آسانی سے کھینچ سکیں گے لیکن وہ بے وقوت یہ نہیں جانتے کہ میں آج سے نہیں شملہ سے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوں۔اور خدا تعالیٰ نے اس وقت سے لے کر اب تک ہر جگہ میری مدد کی ہے۔تم جانتے ہو کہ میں جب خلیفہ ہوا تو مولوی محمد علی صاحب کا جماعت میں بہت زیادہ اثر تھا اور مالدار طبقہ ان کے ساتھ تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الاول حبب فوت ہوئے اور مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھی لاہور چلے گئے تو جماعت کے خزانہ میں صرف ۱۸ روپے تھے۔اور اب خدا کے فضل سے ہمارا سالانہ بجٹ اٹھارہ لاکھ کے قریب ہے اگر میں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہ ہوتا تو تم مجھے منشاء میں مار دیتے اور اگر اس وقت میں کسی وجہ سے پیسے گیا تھا تو تم مجھے ۱۹ء میں مار دیتے جب جماعت کا با اثر اور مالدار طبقہ اک طرف تھا اور میں دوسری طرف تھا خداتعالے میرے ساتھ ہمیشہ رہا ہے۔اس نے اس وقت بھی میری مدد کی حب میں جولان تھا اور طاقتور اور تندرست تھا اور اب بھی میری مدد کرے گا جبکہ میں بوڑھا اور بیمار ہوں نظام خلافت کے باغیوں کا انجام خدا تعالے کی جماعت تو اپنے مقدس آقا اور موعود امام کی بابرکت قیادت میں نئے دلوے ، نئی له الفضل سوار مئی ١٩٥٧ ء م : له الفضل ۲۷ جولائی ۲۳۶۱۹۵۷