تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 173 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 173

خط عبدالمنان کو لکھا گیا ہے۔سو اس کا پتہ اس طرح لگتا ہے کہ میں دن یہ خط ملا اور مولوی صاحب نے مجھے بھیجا اور کہا کہ یہ میرے بیٹے کو بازار سے ملا ہے تو اس دن نانی میری حجامت بنانے آیا ہوا تھا۔پہلے جب بھی وہ آیا کرتا تھا مجھے بتایا کرتا تھا کہ آج میاں عبد المنان نے مجھے حجامت بنوانے کے لیے بلوایا۔اور وہاں مجھ سے یہ یہ باتیں کیں لیکن اُس دن اُس نے کوئی بات نہ کی۔میں نے اس سے دریافت کیا کہ آج تو نے میاں عبدالمنان کی کوئی بات نہیں بتائی۔اس پر اس نے کہا کہ میاں عبد المنان تو بڑی مدت سے میری دکان پر نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے۔آج اتفاقا گول بازار میں رجہاں سے یہ خط ملا ہے ) وہ خود اور اُن کے بیٹے پھر رہے تھے۔وہاں میں نے دیکھا کہ ایک دکاندار جوان کا کرایہ دار تھا آ گئے آیا اور کہنے لگا۔میاں صاحب میں بڑی دیر سے آپ کو تلاش کر رہا ہوں۔دفتروں میں میں کہاں کہاں جاتا۔میں نے آپ کو کرایہ دینا تھا آپ ملتے ہی نہیں۔میں نے اس دوکاندار کو کہا کہ تم کیوں تکلیف کرتے ہو۔میاں صاحب کو ضرورت ہوگی تو وہ اگر کرایہ مانگ لیں گے۔تو یہ واقع اور اس خط کا وہاں سے ملنا بتاتا ہے۔کہ ممکن ہے جیب سے رومال نکالتے ہوئے یہ خط میاں عبد المنان سے نیچے گر گیا ہو۔پھر میں نے گھر میں بات کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ شائد آپ کو معلوم نہیں۔حضرت خلیفہ اول۔۔۔۔۔۔۔۔کے خاندان کے ساتھ جو تعلق رکھنے والے لوگ ہیں وہ سارے کے سارے میاں عبد المنان کو ماموں جان ہی کہتے ہیں۔اس لیے انہوں نے کہا۔ماموں جان کے الفاظ کی وجہ سے آپ ان کے کسی بھانجے یا بھانجی کو تلاش نہ کریں کیونکہ ہیں یوں ایسے آدمی ہیں جن کے ساتھ اُن کے تعلقات ہیں اور وہ سب اُن کو عادتا ماموں کہتے ہیں۔بہر حال میاں عبداللہ صاحب حجام کی گواہی سے پتہ لگ گیا کہ یہ خط فی الواقعہ عبدالمنان کا ہے کیونکہ اُس نے اُسی جگہ جہاں سے یہ خط ملا ہے اور اسی دن میں دن خط ملا ربوہ میں انہیں دیکھا تھا۔اس کے بعد ریزولیوشن کے متعلق ووٹ لینے سے پہلے میں یہ بات کہنی چاہتا ہوں کہ اس ری ایویں کے متعلق غلط فہمی ہوئی ہے۔بعض جماعتوں نے اپنے نمائندوں سے قسمیں لی ہیں کہ وہ شوری میں اس ریزولیوشن کی تائید کریں۔اور اس کے خلاف ووٹ نہ دیں۔بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے اور وہ اعتراض یہ ہے کہ ہم نے تو اپنے ایمان کی بنا پر اور یہ بتانے کے لیے کہ ہمیں