تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 172
۱۷۲ بھی شامل ہیں کی تعداد ڈیڑھ صد سے زیادہ ہو جائے گی۔ان میں خاندان حضرت مسیح موجود علیہ السلام کے افراد کی تعداد اتنی قلیل رہ جاتی ہے کہ منتخب شدہ ممبروں کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی۔ہاں خلیفہ وقت کا انتخاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے خاندان کے افراد اور جماعت کے ایسے مخلصین میں سے ہو سکے گا جو مبایعین ہوں اور جن کا کوئی تعلق غیر مبایعین با اتمرار و غیره در شمنان سلسلہ احمدیہ سے نہ ہوریہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس وقت تک ایسے مخلصین کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے) بنیادی قانون ضروری نوٹ سید نا حضرت۔۔۔۔۔۔خلیفہ اسیح الثانی امید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزبية نے آئندہ کے لیے انتخاب خلافت کے لیے مذکورہ بالا اراکین اور قواعد کی منظوری کے ساتھ بطور بنیادی قانون کے فیصلہ فرمایا کہ :- آئندہ خلافت کے انتخاب کے لیے یہی قانون جاری رہے گا سوائے اس کے کہ خلیفہ وقت کی منظوری سے مشوری میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے اور شوری کے مشورہ کے بعد خلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔مجلس علماء کی یہ تجویز درست ہے (دستخط) مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی مجلس علماء سلسلہ احمدیہ 10/7/06 اس کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نمائندگان مجلس شور می کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : - شاید مولوی صاحب کو یہ بات یاد نہیں رہی یا پھر انہیں بتائی نہیں گئی کہ یہ خط جو انہوں نے پڑھا ہے اور اس میں عبد المنان سے کہا گیا ہے کہ بعض ایسے مضامین لکھو جو اسلام کی تائید میں ہوں تا اس سے جماعت احمدیہ کو جو تم سے نفرت ہے دُور ہو جائے۔اس کے اوپر لکھا ہے ماموں جان اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ " ماموں جان کے الفاظ سے کیسے پتہ لگا کہ یہ