تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 171
کر دیا جائے۔ج۔نئے خلیفہ کا انتخاب مناسب انتظار کے بعد چو میں گھنٹے کے اندراندر ہونا چاہیئے مجبوری کی صورت میں زیادہ سے زیادہ تین دن کے اندر انتخاب ہونا لازمی ہے۔اس درمیانی عرصہ میں صدر انجمن احمدیہ پاکستان جماعت کے مجلہ کاموں کو سرانجام دینے کی ذمہ دار ہوگی۔اگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زندگی میں نئے خلیفہ کے انتخاب کا سوال اٹھے تو مجلس انتخاب خلافت کے اجلاس کے وہ پریذیڈنٹ ہوں گے۔اوہ صدر انجین احمدیہ اور تحریک جدیک اس وقت کے سینیٹر ناظر یا وکیل اجلاس کے پریذیڈنٹ ہوں گے۔(ضروری ہے کہ صدر انجین احمدیہ اور تحریک جدید فوری طور پر مشترکہ اجلاس کر کے ناظروں اور وکلاء کی سینیارٹی فہرست مرتب کرے۔هه - مبلی انتخاب خلافت کا ہر رکن انتخاب سے پہلے یہ حلف اٹھائے گا کہ : - " میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کہ اعلان کرتا ہوں کہ میں خلافتِ احمدیہ کا قائل ہوں اور کسی ایسے شخص کو ووٹ نہیں دونگا جو جماعت مبائعین میں سے خارج کیا گیا ہو یا اس کا تعلق احمدیت یا خلافت احمدیہ کے مخالفین سے ثابت ہویا جب خلافت کا انتخاب عمل میں آجائے تو منتخب شدہ خلیفہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ لوگوں سے بیعت لینے سے پہلے کھڑے ہو کہ قسم کھائے کہ : " میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں خلافت احمدیہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں ان لوگوں کو جو خلافت احمدیہ کے خلاف نہیں باطل پر سمجھتا ہوں اور میں خلافت احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کے لیے پوری کوشش کرونگا اور اسلام کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لیے انتہائی کوشش کرتا رہوں گا۔اور میں سر غریب اور امیر احمدمی کے حقوق کا خیال رکھوں گا اور قرآن شریف اور حدیث کے علوم کی تشریح کے لیے جماعت کے مردوں اور عورتوں میں ذاتی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی کوشاں رہوں گا“ می۔اورہ کے قواعد کے مطابق رفقاء اور نمائندگان جماعت جن میں امراء اضلاع سابق وحال "