تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 168
14A کے انتخاب کے لیے ارپ حل وعقد کی مقدار پانچ ہونے کے متعلق ہی اہل بصرہ کے اکثر فقہاء اور متکلمین کا مذہب ہے " (الاحکام السلطانيه منم) جناب ڈاکٹر سید محمد یوسف صاحب پی۔ایچ۔ڈی لیکچرار عربی علی گڑھ یونیورسٹی لکھتے ہیں۔الف تاریخ میں مذکور ہے کہ حضرت عمرہ کو اس بنا پر کافی تشویش رہتی تھی کہ امت مسلمہ کے باقی ماندہ اعیان ملت میں کوئی شخص ایسانہ متھا جس کو جانشینی کے لیے تجویز کیا جاسکے۔۔۔۔۔۔۔حضرت عمر نے انتخاب را در یہ حقیقی معنوں میں انتخاب تھا) کا معاملہ چھ اشخاص کی ایک مجلس کے سپرد کر دیا۔فیصلہ کثرت رائے سے ہونا تھا۔اور آراء کی مساوات کی حالت میں حضرت عبداللہ بن عمرہ کو حکم بنایا جانا تھا بٹر ٹیکہ مجلس کے اراکین اس پر متفق ہوں۔بصورت دیگر حضرت عبد الرحمن بن عوف کو اختیار دیا گیا کہ اپنی فیصد کن رائے (CASTING YOTE) سے کسی اور امیدوار کے حق میں فیصلہ کردیں۔اس میں ایک خاص نکتہ یہ ہے کہ اعیان طحت کا فیصلہ ہمیشہ قطعی سمجھا جائے گا اور عامتہ المسلمین اس فیصلہ کی تصدیق ملعب و ناداری سے کریں گے۔۔۔۔۔۔الماوردی کا بیان اس بارے میں نہایت واضح ہے کہ اعیانِ ملت کا انتخاب عامتہ الناس کے لیے قبول کرنا لازمی ہے۔در سالہ" اسلام میں خلیفہ کا انتخاب" ص۲۳ (۲) مولوی ابو العطاء صاحب نے اس تقریر کے بعد فرمایا۔اب میں وہ قرار داد پڑھتا ہوں جو شریعیت اسلامیہ اور پرانے علماء کی تحقیقات کی روشنی میں مجلس علماء سلسلہ احمدیہ نے مرتب کی ہے۔قرارداد کا متن یہ ہے :۔بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم انتخاب خلافت کے متعلق ایک ضروری پریزولیوشن تمہیں سیدنا حضرت۔۔۔۔۔۔۔۔خليفة اسم الشان ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ