تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 165
عبد المنان صاحب کے رشتہ دار یہ ما اظہار کرتے ہیں۔اس ناپاک سکیم کے لیے یہ لوگ اللہ رکھا جیسے انسان کو رقمیں دے کر بھی کام لے رہے ہیں۔پس احباب جماعت کا فرض ہے کہ وہ محتر جین کے فتنہ سے ہوشیار رہیں اور انہیں جماعت میں تفرقہ پیدا کرنے کے منصوبہ میں کامیاب نہ ہونے دیں۔مکرم مولوی صاحب نے مزید فرمایا کہ : - مارچ علیہ کی بات ہے کہ عزیزم عطاء الرحیم حامد کو گو لبازار میں سے گزرتے ہوئے ایک خط کا ایک ورق ملا۔جو وہ اٹھا کر گھرے آیا۔وہ ورق میں آپ کو سناتا ہوں۔بسم الله الرحمن الرحیم پیارے ماموں صاحب : خدا تعالے آپ کو عمر دراز دے۔السلام علیکم ورحمة الله و به کانتر صبح کا ایک بجنے کو ہے۔میں ابھی ابھی منہ لپیٹ کر رضائی اوڑھے پڑا تھا۔خیال آیا کرکاموں جان نے کوئی خبر اپنے ہاتھ سے نہیں بھیجی۔دل یا دماغ دونوں میں سے کسی ایک نے کچھ گلا شکوہ بھی تجویز کیا۔پھر ما خیال آیا کہ آپ بھی تو کہ سکتے ہیں کہ بھلے مانس تم نے کیا ہماری خبر لی جو ہم پہ روش دیتے ہو۔ماموں جان اس بات نے مجھے اس وقت چراغ جلا کر لکھنے کو مجبور کیا ہے وہ یہ ہے کہ جناب کو تو صدمہ جماعت کی ناراضگی سے پہنچا ہے وہ علم وعصہ میں تبدیل ہو کہ اللہ تعالیٰ نہ کرے کہ آپ کے ایمان کو ضائع کر دے۔پیارے ناموں ! اگر چہ ظاہر میں آپ کی ریوہ سے ہجرت بڑی نظر آتی ہے مگر اس سے بخوبی جنم لیتی ہے۔یہ موقعہ آپ کے ایمان کو اجاگر کرنے کے لیے بڑا ہی مبارک ہو سکتا ہے۔اگر آپ زیادہ تبلیغ اسلام کی اپنے قلم سے کر سکیں۔پیارے ماموں خدا تعالیٰ وہ دن جلد لائے کہ لاہور کے ہر اخبار میں آپ کے ہدایت سے بھر پور مضمون نظر آنے لگیں اور احباب مجبور ہو کر یہ کہ انھیں کہ یہ صاحب احمدی ہیں۔آپ صرف کربستہ ہو جائیں۔اللہ تعالی آپ کی مدد کرے گا۔پیار سے ماموں ایہی ایک طریقہ ہے جو آپ کو پریشانیوں سے نجات دلا سکتا ہے : یہ خط ظاہر کرتا ہے کہ یہ میاں عبد المنان صاحب کے نام لکھا گیا ہے۔اور ان کی جیب سے