تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 164
ן دن میں اور ملک ان کے پاس گئے۔میں منصور ملک کو اُن کے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔بعد میں منصور ملک صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ نے تو مجھے بتایا نہیں۔یہ بزرگ تو احمدی ہیں۔میں نے کہا۔یہ مجھ سے بھی یہی بات کہتے تھے۔لیکن اس بزرگ کا اعتبار نہیں۔یونہی منافقت کرد ل رہے ہیں۔احمدی نہیں ہیں۔-۲ دسمبر 2 کے تیسرے ہفتہ کا واقعہ ہے کہ عبد الرحمن غزنوی جو مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی کا بھانجا ہے ایک شادی کے سلسلہ میں مجھے میٹرو پول ہوٹل میں ملا اور اُس نے کوئی گفتگو چھیڑ کر مجھے کہا کہ آپ لوگوں نے ہمارے ماموؤں کو جماعت سے نکال دیا ہے لیکن ہم کوشش کر یہ ہے ہیں کہ ہمارہ تا نا کی خلافت ہمارے ماموؤں کو مل جائے۔آپ بھی ہمارے ماموڈں کے ساتھ مل جائیں۔میں نے کہا۔مجھ سے تو مار کھائے گا۔کہنے لگا۔اگر آپ نہیں تو آپ کی اولاد ہمارے قابو آجائے گی۔میں نے کہا اس اولاد کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ سے دعائیں شروع کر دی تھیں کہ اللہ تعالیٰ اسے شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھے۔اس لیے میری اولاد آپ لوگوں کے قابو نہیں آسکتی۔دوسرے خلافت خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے۔وہ جس کو چاہے دے۔آپ کو ہمار می خلافت کی اتنی فکر کیوں ہے۔پھر اپنے ماموؤں کے متعلق تو آپ کو اتنی گھبراہٹ ہے کم سے کم آپ نے اپنے نانا کی بیعت تو کرلی ہوتی کہنے لگا آپ لوگوں نے ہمارے ماموؤں کو جماعت سے نکال دیا ہے وہ خلیفہ ہوں یا نہ ہوں آپ لوگوں میں ہم نے اختلاف ضرور پیدا کر دیا ہے۔میں نے کہا شیطان کی جانشینی بھی تو کسی نے کرنی تھی۔دوران گفتگو میں اُس نے یہ بھی کہا کہ میں الہ رکھا کو پچاس روپے ماہوار دیتا رہا ہوں۔یا یہ کہا کہ اب بھی بھی دے رہا ہوں۔بہر حال اس کا مفہوم یہی تھا۔میں نے اُسے کہا کہ میرے گھر آکہ ذرا اپنی بہن کو بھی مل لو۔کہنے لگا۔میں گیا تو اُس نے بات تو سننی نہیں جوتیاں مارنی شروع کر دینی ہیں۔میں نے کہا۔تمہارا علاج یہی ہے خاکسار عبد اللہ خان امیر جماعت احمدیہ کراچی اس شہادت سے جو دسمبر 1997ء کے واقعات پر مشتمل ہے ثابت ہے کہ محترمین کا خاص مقصد خلافت کا حصول یاکم از کم جماعت احمدیہ میں تفرقہ پیدا کرنا ہے جس کا میاں