تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 161
141 کھانا کھلایا گیا ہے بارہ ہزار ربوہ والے ملائے جائیں تو پچپن ہزار ہو جاتا ہے۔پس عورتوں اور مردوں کو ملا کہ اس وقت ہماری تعداد ۵۵ ہزار ہے اس وقت بارہ سو بھی یہ پچپن ہزار کہاں سے آئے ؟ خدا ہی لایا۔پس میں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالے خلیفہ ثالث بنائے ابھی بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالے پر ایمان لاکر کھڑا ہو جائے گا تو منان وہاب اور پیغامی کیا چیز ہی اگر دنیا کی حکومتیں تبھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔الغرویائے تجیر، جماعت احمدیہ کو حضرت خلیفہ اول کی اولاد سے ہر گنہ کوئی تعلق نہیں جماعت احمدیہ کو خدا کی خلافت سے تعلق ہے اور وہ خدا کی خلافت کے آگے اور پیچھے لڑے گی اور دنیا میں کسی شریر کو جو کہ خلافت کے خلاف ہے خلافت کے قریب بھی نہیں آنے دے گیا ہے۔انتخاب خلافت سے متعلق تاریخی ریزولیوشن حضرت مصلح موعود نے اپنی خدا داد بصیرت و فراست سے جس نظام عمل کا اعلان جلسہ سالانہ ۹۵ کے موقع پر فرمایا تھا۔اس کو حضور ہی کی اجازت سے مولانا ابوالعطاء صاحب جالندہبری نے اور مارچ ۱۹۵۷ء کو مجلس مشاورت کے پہلے اجلاس میں ایک قرار داد کی صورت میں پیش کیا۔جسے ملک کے گوشے گوشے سے آنے والے تین سو اکتالیس (۳۴۱) نمائندگان جماعت نے دل کی گہرائیوں سے قبول کیا اور اس کے منظور کیے جانے کی سفارش کی۔اور حضور نے بھی اسی نشست میں اس سفارش کی منظوری کا اعلان فرمایا۔اس طرح یہ نیا فتنہ جو قریباً آٹھ ماہ قبل ایک مہیب اور خوفناک طوفان بن کر ظاہر ہوا تھا۔خدا کے موعود خلیفہ کے بروقت اور فیصلہ کن اقدام کی برکت سے خلافت کے روحانی مینار کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور بلند کرنے کا موجب ہوا۔ذیل میں مجلس مشاورت 19 ء کے اس پہلے اجلاس کی مکمل کارروائی درج کی جاتی ہے :- لہ خلافت حقہ اسلامیہ تقریر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ناشر الشركة الاسلامیہ طبع اول ۱۹۵۷ء