تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 160
14۔بعد میں سلسلہ کی طرف سے ان پر کوئی الزام نہ آیا ہوا لیے مبلغوں کی لیسٹ شائع کر نا مجلس تحریک کا کام ہو گا اسی طرح ایسے مبلغ جنہوں نے پاکستان کے کسی ضلع یا صوبہ میں رئیس التبلیغ کے طور پر کم از کم ایک سال کام کیا ہو ان کی فہرست بنا نا صد را نمین احمدیہ کے دفتہ ہو گا۔گر شرط یہ ہو گی کہ اگر وہ موقعہ پر پہنچ جائیں سیکرٹری شوری تمام ملک میں اطلاع دیدے کہ فوراً پہنچ جاؤ۔اس کے بعد جو نہ پہنچے اس کا اپنا قصور ہو گا اور اس کی غیر حاضری خلافت کے انتخاب پہ اثر اندازہ نہیں ہوگی نہ یہ عذر سُنا جائے گا کہ وقت پر اطلاع شائع نہیں ہوئی یہ ان کا اپنا کام ہے کہ وہ پہنچیں سیکر ٹڈی شوری کا کام ان کو لانا نہیں اس کا کام صرف یہ ہوگا کہ وہ ایک اعلان کہ دے اور اگر سیکر ٹری شوری کہے کہ میں نے اعلان کر دیا تھا تو وہ انتخاب جائزہ سمجھا جائے گا ان لوگوں کا یہ کہ دینا ان میں سے کسی کا یہ کہ دینا کہ مجھے اطلاع نہیں پہنچ سکی اس کی کوئی وقعت نہیں ہو گی نہ قانوناً نہ شرعاً۔یہ سب لوگ مل کہ تو فیصلہ کر یں گے وہ تمام جماعت کے لیے قابل قبول ہوگا۔اور جماعت میں سے جو شخص اس کی مخالفت کرے گاوہ باغی ہو گا۔اور جب بھی انتخاب خلافت کا وقت آئے اور مقررہ طریق کے مطابق جو بھی خلیفہ چنا جائے میں اس کو ابھی سے یہ بشارت دیتا ہوں کہ اگر اس قانون کے ماتحت وہ چنا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہو گا۔اور جو بھی اس کے مقابل میں کھڑا ہو گا وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو ذلیل کیا جائے گا اور تباہ کیا جائے گا۔کیونکہ ایسا خلیفہ صرف اس لیے کھڑا ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیه الصلاة والسلام اور محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کو پورا کرے کہ خلافت اسلامیہ ہمیشہ قائم کر ہے پس چونکہ وہ قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتوں کو پورا کرنے کے لیے کھڑا ہو گا اس لیے اُسے ڈرنا نہیں چاہیئے۔جب مجھے خلیفہ چنا گیا تھا تو سلسلہ کے بڑے بڑے لیڈر سارے مخالف ہو گئے تھے اور خزانہ میں نگل اٹھارہ آنے تھے اب تم بتاؤ اٹھارہ آنے میں ہم تم کو ایک ناشتہ بھی دے سکتے ہیں؟ پھر خدا تعالیٰ نے تم کو کھینچ کر لے آیا اور یا تو یہ حالت تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام کی وفات پر صرف بارہ سو آدمی جمع ہوئے تھے اور یا آج کی رپورٹ یہ ہے کہ ربوہ کے آدمیوں کو ملا کہ اس وقت طلبہ مردانہ اور زنانہ میں پچپن ہزار تعداد ہے۔آج رات ۴۳ ہزار مہمانوں کو