تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 159
109 کی جماعت بنائی لیکن بیالیس سال کے انتظار کے بعد اسی باسی کڑھی میں پھر ابال آیا اور وہ بھی لگے مولوی عبد المنان اور عبد الوہاب کی تائید میں مضمون لکھنے اور ان میں سے ایک شخص محمد حسن چیمہ نے بھی ایک مضمون شائع کیا کہ ہمارا نظام اور ہمارا سٹیج اور ہماری جماعت تمہاری مدد کے لیے تیار ہے شنا باش ہمت کر کے کھڑے رہو مرزا محمود سے دینا نہیں اس کی خلافت کے پردے چاک کر کے رکھ دو ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے کوئی اس سے پوچھے کہ تم نے مولوی محمد علی صاحب کو کیا مدد مے لی تھی آخر مولوی محمدعلی صاحب بھی تو تمہارے لیڈر تھے خواجہ کمال الدین صاحب بھی لیڈر تھے ان کی تم نے کیا مد کر لی تھی جو آج عبد المنان اور عبد الوہاب کی کر لو گے پس یہ باتیں محض ڈھکوسلے ہیں ان سے " صرف ہم کو ہوشیار کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مطمئن نہ ہو جانا اور یہ نہ سمجھنا خدا تعالیٰ چونکہ خلافت قائم کیا کرتا ہے اس لیے کوئی ڈر کی بات نہیں ہے۔تمہارے زمانہ میں بھی تفتے کھڑے ہورہے ہیں اور اسلام کے ابتدائی زمانہ میں بھی نئے کھڑے ہوئے تھے اس لیے خلافت کو ایسی طرز پہ چلاؤ جو زیادہ آسان ہوا اور کوئی ایک دو لفنگے اٹھ کر اور کسی کے ہاتھ پر بیعت کر کے یہ نہ کہدیں کہ چلو خلیفہ مقرر ہو گیا ہے پس اسلامی طریق پر جو کہ میں آگے بیان کر دوں گا آئندہ خلافت کے لیے میں یہ قاعدہ منسوخ کرتا ہوں کہ شوری انتخاب کرے بلکہ میں یہ قاعدہ مقرر کرتا ہوں کہ آئندہ جب بھی خلافت کے انتخاب کا وقت آئے تو صدر انجمن احمدیہ کے ناظر اور ممبر اور تحریک جدید کے وکلاء اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے خاندان کے زندہ افراد اور اب نظر ثانی کرتے وقت میں یہ بات بھی بعض دوستوں کے مشورہ سے زائد کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام کے رفقاء بھی جن کو فوراً بعد تحقیقات صدر انجمن احمدیہ کو چاہیے کہ صحابیت کا سرٹیفکیٹ دیدے اور جامعتہ المبشرین کے پرنسپل اور جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمدیہ اور تمام جماعتہائے پنجاب اور سندھ کے ضلعوں کے امیر اور مغربی پاکستان اور کراچی کا امیر اور مشرقی پاکستان کا امیر مل کر اس کا انتخاب کریں۔اسی طرح نظر ثانی کرتے وقت میں یہ امر بھی بڑھاتا ہوں کہ ایسے سابق اسراء جودو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہے ہوں گو انتخاب کے وقت بوجہ معذوری امیرنہ رہے ہوں وہ بھی لسٹ میں شامل کیے جائیں اسی طرح ایسے تمام مبلغ جو ایک سال تک غیر ملک میں کام کہ آئے ہیں اور