تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 155
۱۵۵ ثابت کر دیا کہ اس کی برکات اب بھی خلافت سے وابستہ ہیں پہلے حضور کے اس ارشاد پہ نظارت اصلاح و ارشاد نے احباب جماعت کے مشورہ سے الفضل سے الفضل اور نومبر ۱۹۵۶ء میں یہ اعلان کیا کہ ۲۷ مٹی کو یوم خلافت، مقرر کیا جاتا ہے۔چنانچہ ۱۹۵۶ء سے دنیا بھر کی احمدی جماعتیں اس تاریخ کو نہایت جوش و خروش اور باقاعدگی سے یوم خلافت منارہی ہیں۔ایک احمدی نوجوان کے تاثرات ان اجتماعات نے احمدیوں کے قلبی خیالات و جذبات کی کا یا پلٹ دی۔خصوصاً وہ نوجوان جو ہنوز اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ معمول بات کو خواہ عنواء طول دے دیا گیا ہے کھلے بندوں اپنی کم فکری اور حضرت مصلح موعود کی اولوالعزمی کا اقرارہ کر نے لگے۔مثلاً اُن دنوں چوہدری صلاح الدین صاحب کے ساتھ ناء کالج لاہور میں چک 4، ضلع سرگودہا کے ایک احمدی نوجوان پڑھا کرتے تھے۔یہ نوجوان جذبانی قسم کے تھے اور ان اجتماعات سے قبل اسی نہج پہ چوہدری صاحب سے بحث کیا کرتے تھے کہ مگر اجتماع خدام الاحمدیہ نے ان کے دل ودماغ پر ایک انقلابی اثر ڈالا چنانچہ انہوں نے چوہدری صلاح الدین صاحب کو بذریعہ مکتوب لکھا کہ : جہاں تک جلسہ راجتماع خدام الاحمدیہ - ناقل) سے استفادہ کا تعلق ہے میرے ذہن میں موجودہ فتنہ ہو کر سے متعلق مکمل تبدیلی ہو چکی ہے۔پہلے میں سمجھنا تھا کہ اگر حضور کو غلط نہی رسوذ باللہ بھی بنائی گئی ہے تو بھی قیام و استحکام نظام کے لیے خواہ آدمی جماعت بھی کھیلی جائے تو ہر حال شجر تو قائم ہی کے اس لیے نئی کونپلیں پھوٹ پڑیں گی اور بالآ خر فائدہ ہی ہوگا کیونکہ اصل اور جڑھ تو نظام ہے جن سے جماعت کی زندگی اور ترقی وابستہ ہے۔لیکن اب میں نے حضور کی تقریر سنی علمائے سلسلہ کے خیالات کئے۔اُن سے ملا۔ایک ماہ سابقہ کی اخبارات پڑھیں خالد پڑھا اور غور کیا تو خود کو تاریخی میں پایا۔اور کامل یقین ہوگیا کہ یہ احمدیت میں " وہابیت " احراریت کا مضبوط اور مؤثر حملہ تھا جس کو اس فضل عمر نے۔۔۔بنگہ جماعت کو آئندہ کے لیے ایک مستحکم بنیاد نے الفصل یکم مئی ۱۹۵۷ ء کر کے یہ نوجوان انتقال کر چکے ہیں۔